ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

ادب و ثقافت RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

خلیل طو ق اَر: اردو کا البیلا ترک شاعر

’طوق ار کی امیجری اور استعارہ سازی پیش پا افتادہ غزلیہ استعاروں کی فہرست سے نہیں لی گئی ہے۔ یہ ساکن بھی ہے اورفلم کی طرح فریم بائی فریم متحرک بھی، لیکن ہر حال میں تر و تازہ ہے‘

Dr. Halil Toker with Ahmad Faraz

ڈاکٹر خلیل طوق ار احمد فراز کے ساتھ

شیئر کیجیئے

’کچھ عرصہ بعد اردو سے محبت اور شعر و شاعری کے شوق کی آمیزش ہوئی اور غیر اختیاری طور پر میرے احساسات اردو کے روپ میں میرے قلم سے نکلنے لگے‘

کوئی بیس برس پہلے جب مجھے ترکی جانے کا موقع ملا تھا تب کہیں کہیں اکادکا پاکستانی دکھائی پڑتے تھے جن کے ساتھ اردو میں سلام کلام ہو پاتا تھا۔ لیکن اس برس اپریل میں جب میں ایک سیمینار میں شرکت کے لیے استنبول پہنچا تو مطلع زیادہ نکھرا ہوا پایا۔ نہ صرف یہ کہ سہ لسانی سسٹم کے تحت وہاں کی یونیورسٹیاں یورپ اور ایشیا کے درمیان پُل کا کام کرنے کے لیے نوجوان ترکیوں کے تین یا اس بھی زیادہ زبانیں بولنے والے گروہ در گروہ تیار کر رہی ہیں، بلکہ اس کار ِخیر میں اردو کا پلڑا بھاری ہے۔ اس کی وجہ کچھ تو صدر ضیا الحق کے زمانے میں حکومت پاکستان کی طرف سے دو طرفہ سیاسی، معاشرتی اور تجارتی تعلقات کی پیش رفت ہے (جس کے تحت اردو کے معروف استاد ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار پنجاب یونیوسٹی لاہور سے جامعہ استنبول میں درس و تدریس کے لیے گئے تھے) اور کچھ ترکی نئی نسل کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا ناسٹیلجیا ہے، جو عربی رسم الخط کو (مذہب کے حوالے سے کم اور مشرقی تہذیب کے حوالے سے زیادہ) اپنانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ثبوت کے طور پر استنبول یونیورٹی کا شعبہء اردو ہی دیکھا جا سکتا ہے،جس میں یہ نوجوان (انڈر گریجویٹ سطح پر) اپنے کریڈٹ بڑھانے کے لیے جوق در جوق شامل ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر خلیل طوق ار اسی شعبے کے صدر ہیں۔ نہ صر ف یہ کہ اردو خلیل صاحب کی مادری زبان نہیں تھی بلکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کے لڑکپن میں ان کے آس پاس بھی اردو بولنے والا کوئی نہیں تھا۔ ظونغولداق بحرِ اسود کے کنارے پر ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جس میں وہ پانچ برس کی عمر کے بعداپنے کنبے کے ساتھ مقیم رہے۔ انہوں نے اسی قصبے کے عام ورنیکولر اسکول سے پرائمری اور مڈل کے امتحانات پاس کیے۔ پھر ہائی اسکول کے لیے ان کے والد نے ٹیکنیکل پڑھائی کو ترجیح دی اور وہ ظونغولداق انجنیئرنگ اسکول میں داخل ہوئے۔ چہ آنکہ وہ ہر ایک سیمسٹر میں امتیاز سے کامیاب ہوتے رہے، ان کی خواہش تھی کہ وہ مختلف زبانوں پر اور ادب ِ عالیہ پر عبور حاصل کریں اور والدین کی مرضی کے خلاف انہوں نے ہائی اسکول کے بعد یونیورسٹی کے شعبہٴ فارسی میں داخلہ لیا۔ اس طرح ان کا مدت ِ مدید کا یہ خواب پورا ہوا کہ وہ قدیم اور جدید فارسی ادب کا مطالعہ کر سکیں۔

اس دوران ایک اورخوش گوار واقعہ پیش آیا جس نے ان کی زندگی اور طبعی افتاد کو جلا بخشی۔ یہ لاہور سے پروفیسر غلام حسین ذوالفقار صاحب کی استنبول یونیورسٹی میں آمد تھی۔ وہ ثقافتی تبادلے کے پروگرام کے سلسلے میں پاکستان سے تشریف لائے تھے اور اپنے سہل اور سادہ مزاج، اپنی علمیت اور اپنے رہن سہن سے اپنے وطنِ عزیز کی نمائندگی میں اور اپنے میزبانوں کا دل جیتنے میں لاثانی تھے۔

ان کی آمد کے بعد یونیورسٹی میں اردو کی آپشنل کلاسز شروع ہوئیں اور کچھ پروفیسر صاحب کی شفقت اور کچھ اپنے ذوق و شوق کی وجہ سے خلیل اردو کی طرف کھنچے چلے آئے۔ چار برسوں میں امتیازی نمبروں سے بی اے کی ڈگری لینے کے بعدان کے سامنے اپنے کیریر کے دو مواقع موجود تھے۔ وہ وزارت ِ خارجہ میں فارسی ترجمان کے طور پر بھی ایک اچھا عہدہ حاصل کر سکتے تھے اور دوسری طرف یونیورسٹی کے شعبہ ٴ فارسی میں اردو کے لیے اسسٹنٹ کی جگہ بھی خالی تھی۔ اچھی تنخواہ اور آرام کی سرکاری نوکری کی جگہ انہوں نے یونیورسٹی کی کم تنخواہ والی ملازمت کوترجیح دی اور اس طرح فارسی سے اردو کی طرف آ کر وہ شعبہٴ اردو میں شامل ہوئے۔  1992ء میں انہوں نے باقاعدگی سے اردو میں ایم اے کیا۔ ماسٹرز ڈگری کے لیے ان کے تھیسس کا موضوع مرزا غالب کی زندگی اور فن سے متعلق تھا۔ تین برسوں میں انہوں نے اپنی ڈاکٹریٹ مکمل کر لی۔

”ہندوستان میں فارسی اور اردو شاعری اور بہادر شاہ ظفر کے عہد کے شعرا“۔ یہ کام گنجلک اور پیچیدہ نہ ہونے کے باوجود تحقیق اور محققانہ تشریح و توضیع کا تھا، اور خلیل صاحب نے اپنے مقالے میں اس فرض کو بخوبی نبھایا۔اس وقت وہ اپنے شعبے کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور صدر ہیں۔

خلیل طوق اَر صاحب کی اردو ادب میں دلچسپی، اور اس دلچسپی کے تحت معرض وجود میں آنے والی، تحقیق اور درس و تدریس شاید ادھوری رہ جاتی اگر وہ اپنی تخلیقی قوت کو، جو ایک چنگاری کی طرح ان کے ذہن ِ نیم بیدار میں سلگ رہی تھی، ہوا نہ دیتے۔ وہ لکھتے ہیں:

’میں ترک ہوں۔ اردو میری مادری زبان نہیں۔ نہ ہی میں ایک ایسے ماحول میں پیدا ہو کر پروان چڑھا جہاں اردو بولی جاتی ہو۔  میں نے بی۔اے کی تعلیم کے دوران اردو سیکھنی شروع کی۔۔۔ اس طرح سے میرے دل میں اردو سے محبت سی بیدار ہونے لگی اور یہ محبت زمانے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ مجھے شعر و شاعری کا شوق تھا۔ کچھ عرصہ بعد اردو سے محبت اور شعر و شاعری کے شوق    کی آمیزش ہوئی اور غیر اختیاری طور پر میرے احساسات اردو کے روپ میں میرے قلم سے نکلنے لگے۔‘
(”عرض حال“، دیباچہ”ایک قطرہ آنسو“ صفحہ 17)

خلیل اپنی اردو شاعری کی شروعات کے افسانے کو محبت کے استعارے سے شروع کرتے ہیں۔ کیا اس روداد میں عشق کے استعارے کی وساطت سے ان کے تحت الشعور میں خوابیدہ اردو کے تئیں اسی قماش کے عشق کا اظہار نہیں ہے جو ایک عاشق کو اپنے محبوب کے ساتھ ہوتا ہے، یہ دیکھنا قاری کا کام ہے۔ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں۔

’ممکن ہے بعضوں کے لیے اس مجموعہ میں موجود نظموں کو نظم کی صنف میں شمار کرنا مشکل ہو۔ شاید میرا شمار بھی شاعروں کی صف میں نہیں کیا جا سکتا۔ اور ویسے بھی اس سلسلے میں نہ میرا مدعا ہے، نہ میری ضّد۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ نظمیں بعض اہل ہنر کے اعلیٰ معیارپر پوری نہ اترتی ہوں۔ اس لیے قارئین کرام سے میری گذارش ہے کہ اس مجموعہ کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ مد نظر رکھیں کہ اس میں موجود نظموں کو کسی غیر زبان اجنبی نے قلم بند کیا ہے۔ لیکن جو بھی ہو، جیسے بھی ہو، یہ نظمیں ان لمحوں کی یادیں ہیں جنہیں میں بھولنا نہیں چاہتا۔‘
(”عرض حال“، پیش لفظ۔ ”ایک قطرہ آنسو“۔ ص۔17-18)

 ان الفاظ میں شاعر کو اس بات کا احساس ہے کہ اس بات کے باوجود کہ یہ نظمیں ان کے دل سے نکلی ہیں، ”ان لمحوں کی یادیں ہیں، جنہیں میں بھولنا نہیں چاہتا“، لیکن شاید اردو کے ” اہل ہنر“ انہیں نظم کی صنف میں شمار نہ کریں۔ وللہ کیا انکسار ہے اور کیاحقیقت افروز بیان ہے! یہ اصطلاح ”اہل ہنر“ کچھ توجہ چاہتی ہے۔ اہل ہنر کون ہوتے ہیں اور ”ہنر“ کے لغوی معانی کیا ہیں؟ خلیل صاحب نے جو بات معصومیت سے لکھ دی، اس میں ایک راز پنہاں ہے۔

دیگر امور کے علاوہ اردو شاعری فارسی کی مرہون ِ منت اس لیے بھی ہے کہ ہندوی چھندوں (بشمولیت پنجابی پِنگل ) سے ناطہ توڑ کر اس نے فارسی عروض کی پابندی لازمی تسلیم کی ہے۔ اس طرح شاعری کی گرائمر یعنی عروض اور اس کے ذیل میں اوزان کے ہنرکا سیکھنا بالکل ایسے ہی ایک لازمی مانا گیا ہے جیسے کاروباری منیم یا منشی اکاؤنٹینسی سیکھتے ہیں یا سنار، بڑھئی، مکینک اپنا پیشہ یعنی زرگری، چوب کاری یا مشینری کا کام۔ گویا شاعری کے” اوزاروں“ یعنی عروض کا علم جب تک نہ سیکھا جائے، شعر کہنے والے کو شاعر نہیں تسلیم کیا جاتا۔ لیکن تخلیق کی دیوی کے بطن سے پیدا ہونے والی تخلیقی قوت کی چنگاری خلیل صاحب سے ایسی نظموں کی تخلیق چاہتی تھی، جو عروض کی جکڑ بندیوں سے آزاد تو ہو ں، لیکن اچھی شاعری کے دیگر جملہ لوازمات سے، مثلاً اندرونی آہنگ، تمثال، استعارہ، علامت، اشارہ، کنایہ اور دیگر صنائع و بدائع سے مزین ہوں۔ ظاہر ہے کہ صنف غزل، جو کلیتاً عروض کی مرہون منت ہے، اس زمرے میں نہیں آ سکتی تھی۔ صرف وہ نظمیں ہی شامل ہو سکتی تھیں، جنہیں (کسی دیگر موزوں لیبل کی غیر موجودگی میں) ’نثری نظم‘ کہا گیا ہے۔ یہ اصطلاح بذاتِ خود اندرونی تضاد سے دوچار ہے، تو بھی اسے قبول عام کی سند مل چکی ہے۔ چہ آنکہ ’بلینک ورس‘ (آزاد نظم) سے مغائرت ظاہر کرنے کے لیے اس قبیل و قماش کی نظموں پر مشتمل شاعری کوفری ورس کہا جا سکتا تھا اور اس میں عذر بھی کیا ہو سکتا تھا جب کہ ہم ’سمبل‘ ’امیج‘ ’کولاج‘ وغیرہ انگریزی کی تنقیدی زبان سے مستعار لے کر اکثر و بیشتراستعمال میں لاتے ہیں۔ اردو املا میں ’فری ورس‘ بآسانی لکھا جا سکتاہے، جبکہ کچھ لمبے الفاظ لکھنے میں بھونڈے دکھائی دیتے ہیں۔

میں نے خود ہمیشہ عروض کی سخت ترین پابندی کے ساتھ اردو میں آزاد نظمیں خلق کی ہیں اور کچھ تجربوں میں ’رَن آن لائن‘ کے طریقِ کار کے علاوہ، جدید یورپی اور امریکی شاعری میں ہر نئے دن ادبی افق پر طلوع ہونے والے نئے تجربوں سے بھی استفادہ کیا ہے۔ ان میں ہی صوتی محاکات کا چلن ہے، جو میری کچھ نظموں کا محرک رہا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ عروض کی پابندی اور صوتی محاکات کئی بار وصل کے عمل میں بہم دگرمنسلک نہیں ہوتے، میں نے عروض کی پابندی کو ہمیشہ ملحوظ خاطرر رکھا ہے۔ اس لیے یہ بات شاید اصولی طور پر میرے نقطہٴ نظرکی نفی و تردید کرتی ہو، لیکن میں یہ کہنے سے نہیں جھجکتاکہ اگر دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں، بشمول انگریزی، فرانسیسی، جرمن، لاطینی، جدید اطالوی، اورہسپانوی زبانوں کے شعری ادب میں یہ فرق روا نہیں رکھا جاتا کہ ایک نظم’ بلینک ورس‘ ہے اور دوسری’ فری ورس‘، تو اردو میں کیوں رکھا جائے؟

میں خلیل طوق آر صاحب کی ایک ’نثری نظم‘ یہاں پیش کرنے کے بعد یہ دیکھنے کی جسارت کروں گا کہ آیا نثری نظم اپنی ’نظم‘ ہونے کی حیثیت میں نثر کے استعمال کی وجہ سے باقاعدہ تقطیع کی جا سکنے والی ”نظم“ سے کمتر ہے یا بہتر۔


Book by Halil Toker


  
    جوبن کے دن تھے
    جوبن کے دن تھے
    لٹا دیے سنجوگ کے آنند اپنے
    پھاگن کی شرابی پریاں
    سنائیں پوس کی کہانیاں مجھے
    ٹھنڈی پڑ گئی مامتا کی گرمی
    اوس آنکھوں میں جم گئی
    دھڑکن دھم سے رک گئی
    جیون کی رسی اچانک ٹوٹ گئی
    جوبن کے دن تھے جب میں نے
    سُلا دیں آشائیں اپنے من میں

یہ نظم معمولی سے رد و بدل کے ساتھ، کچھ بھرتی کے الفاظ جوڑنے سے یا کچھ زیر اور واؤ سے بننے والے اضافتی اور فارسی آمیز ’ذو الجلالی‘ الفاظ کے اشتراک سے ایک ہی بحر میں بآسانی بدلی جا سکتی تھی۔ موجودہ حالت میں بھی کچھ سطریں ایسی ہیں جو کسی نہ کسی بحر میں تقطیع کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً ”پھاگن کی شرابی پریاں“ یا ”جوبن کے دن تھے جب میں نے“ چار بار فعلن فعلن کی تکرار، یا ”اوس آنکھوں میں جم گئی“ تین بار فعلن فعلن کی تکرار، یا”سُنائیں پوس کی کہانیاں مجھے“ مفاعلن مفاعلن کی تکرار میں موزوں ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سب سطروں میں اندرونی ردھم موجود ہے جو سطروں کو موسیقی کے تال میں باندھتا ہے۔ شاعری کے کچھ دیگر لوازم اس نظم میں بدرجہٴ اتم موجود ہیں۔ بصری پیکرتمثالوں کی صورت میں ابھرتے ہیں۔ الفاظ کے معنوی تال میل میں دیکھا جائے تو ”پوس“ یعنی موسم سرما کا مہینہ، ”ٹھنڈی پڑ گئی مامتا کی گرمی“، ”اوس آنکھوں میں جم گئی“، ایک تسبیح میں دانوں کی طرح پروئے ہوئے لگتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہندی گیتوں کی لفظیات کے بے حد خوبصورت اور موسیقیت سے لبریز نمونے اس نظم میں اپنی چھب دکھلاتے ہوئے پیش کیے گئے ہیں۔

یہ سوال کئی بار اٹھایا گیا ہے کہ کیا نثری نظم کا کوئی تخلیقی جواز ہے بھی؟ اردو میں نثری نظم کے امکانات کی نفی میں عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ بحر کی غیر موجودگی میں چونکہ آہنگ قائم رکھنا مشکل ہے، اس لیے شاعر اگر موسیقیت کی سطح کو چھونے والا آہنگ برقرار نہیں رکھ سکتا تو اس کی تخلیق ’نثرِ لطیف‘ تو ہو گی، نظم نہیں۔ اردو شاعری کی بوطیقا شروع سے ہی صنف غزل کے ساتھ منسلک رہی ہے۔ س لیے پرانے ذہنوں کو یہی محسوس ہوتا ہے کہ جو شعری تخلیق تقطیع کے پیمانے پر پوری نہ اترے وہ اس صنف سے خارج ہے۔ اردو نظم کی حالیہ تاریخ سے میرارشتہ گذشتہ ساٹھ برسوں سے قائم ہے۔ میں نے پابند نظمیں بھی لکھی ہیں اور باقاعدگی سے تقطیع کی جا سکنے والی (قافیہ اور سطروں کی طوالت میں یکسانیت کی قید سے آزاد) بلینک ورس نظمیں بھی۔ درس و تدریس میں انگریزی اور دیگر یورپی زبانوں کے ادب ِ عالیہ کو پڑھاتے ہوئے یہ بات بھی وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ فی زمانہ ان زبانوں میں نناوے فیصد نظمیں ”فری ورس“ یعنی اردو اصطلاح ”نثری نظم “کے قبیل سے ہیں۔ سانیٹ، اوڈ، اور دیگر اصناف شعر جن کو انگریزی کے عروض کے مطابق تقطیع کیا جا سکتا ہے، فی زمانہ ناپید ہیں۔ دور دورہ ہے تو صرف ”فری ورس“ کا۔ ایسی شاعری جس میں عروض کی جکڑ بندیاں نہ ہو اور جو فن ِ شعر کے دیگر لوازمات، استعارہ، تشبیہہ، تمثال، علامت، اشارہ، کنایہ اور بین المتونیت Intertextuality  کی سطح پر تاریخ، اساطیر، لوک قصص اور مہا بیانیہ کی صنف کی رزمیہ شاعری سے نہ صرف اپنا رشتہ استوار کرے بلکہ ان سے کرداروں اور واقعات کی باز یافت کرنے کے بعد،فی زمانہ سماجی حالات کے فریم آف ریفرنس میں رکھ کر، انہیں نئے معانی کا ملبوس بھی پہنائے۔۔۔ یہ ہے وہ شاعری (جو صنف ِ غزل میں تو خیر ناممکن ہے) لیکن جو صرف ”بلینک ورس “یا” فری ورس“ میں پیش کی جا سکتی ہے۔
   
خلیل صاحب کے پہلے مجموعے”ایک قطرہ آنسو“ میں مشمولہ نثری نظمیں ان کے دل سے نکلی ہوئی، شبنم سے دھُلی ہوئی، ایسی شاعری ہے جسے لوئی میکنیس Honest to God and self کہتا ہے۔میں ان نظموں میں سے دواور نمونے پیش کروں گا اور قاری سے درخواست کروں گا کہ ان نظموں کی امیجری اور پیکرتراشی کی طرف ایک نظر دیکھ کر یہ ضرور تسلیم کریں کہ یہ امیجری اور استعارہ سازی پیش پا افتادہ غزلیہ استعاروں کی فہرست سے نہیں لی گئی ہے۔ یہ ساکن بھی ہے اورفلم کی طرح فریم بائی فریم متحرک بھی، لیکن ہر حال میں تر و تازہ ہے۔

ابر بہار
    ہواؤں کی سوئی ہاتھ میں لیے
    ابر ِ بہار سی رہا ہوں میں
    غمگین پت جھڑوں کی کالی
    گھٹاؤں سے بچے ہوئے
    ٹکڑوں کو ملا ملا کر
    رنگ کرتا ہوں انہیں
    آنکھ کی سفیدی سے بھی سفید
    سفیدی سے
    ایک قطرہ ٴ اشک اس کے دل میں
    ڈالتا ہوں
    اکسیر کی نیت سے، جو کہ
     ٹپک پڑا تھا صدیوں پہلے
    ایک یتیم پاک دامن کی
    چشم ِ شفا بخش سے
    ”ھو“ کہتا ہوں اس کے کان میں
    سر گوشیوں میں
    آزاد کرتا ہوں اسے
    اپنے تھکے ہوئے
    بے بس ہاتھوں سے
    جائے، جہاں چاہے
    جہاں تک جا سکے
   
    برسائے
    باران ِ مروارید
    شاید بدل دے
    الٹے ہوئے نصیب!

یہ نظم کلیتاً ذاتی ہے، بلکہ یوں کہنا بہتر ہو گا کہ ’وارداتی‘ ہے۔ موضوع ’واردات‘ کی سطح پر زمینی ہے، لیکن استعارے کی سطح پر ما بعد الطبیعاتی ہے۔ مرکزی استعارہ ایک ایسی نیک روح کا انسانی قالب میں آنا ہے جو ’باران ِ مروارید‘ یعنی موتیوں کی برکھا لے کر وارد ہوئی ہے، لیکن اس کا زمینی قیام مختصر ترین ہے۔ اسے چلے جانا ہے۔اس مرکزی استعارے کو تمثال سازی کے بصری نمونوں سے ایسے پیش کیا گیا ہے کہ پہلی سطر سے آخری سطر تک نظم اپنے اسٹرکچر میں ایک نامیاتی اکائی بن گئی ہے۔

پہلا متحرک امیج واحد متکلم (جو شاعر بنفسِ نفیس خود بھی ہو سکتا ہے) کا ایک ابر ِ بہار کی چیتھڑا چیتھڑا ہوئی چادر کو سوئی کی نوک سے سینا ہے۔ یہ سوزن اپنا کام کر چکتی ہے تو واحد متکلم کہتا ہے کہ ”آنکھ کی سفیدی سے بھی زیادہ سفید“ قلعی سے وہ اس ابر ِ بہار کو رنگ ساز کی طرح رنگ کی ایک پرت دیتا ہے۔ اب استعارے میں ایک اور جہت وارد ہوتی ہے۔’اکسیر کی نیت سے‘ (یعنی شفا یابی کے لیے) ایک ایسا ”قطرہ ٴ اشک“ انسانی جسم میں حلول ہوچکی اس روح کے بند ہوتے ہوئے ”دل میں / ڈالتا ہوں / جو ٹپک پڑا تھا صدیوں پہلے / ایک یتیم پاک دامن کی / چشم ِ شفا بخش سے“۔ ”پاک دامن“ کے تاریخی یا اسطوراتی حوالے کی تفسیر کرنے کی ضرورت نہیں، صرف یہ دیکھنا ضروری ہے، کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔اس کے کان میں ”اللہ ھو“ کی سرگوشی کا ورد، اور اس کے بعد اس پاک روح کو اپنے ابدی سفر پر جانے کا اذن․․․․یہ سب واحد متکلم کی خود نوشت داستان ِ غم ہے۔ اس کے اپنے گھر کی زمین پر تو موتیوں کی بارش نہیں ہو سکی، لیکن اب:
آزاد کرتا ہوں اسے / اپنے تھکے ہوئے / بے بس ہاتھوں سے / جائے، جہاں چاہے / جہاں تک جا سکے / برسائے /
باران ِ مراورید / شاید بدل دے / الٹے ہوئے نصیب!

یہ نظم اور اس جیسی کئی اور نظمیں اس شعری مجموعے میں، (جسے انگریزی کی اصطلاح میں A writer's juvenalia کہا جا سکتا ہے) نہ صرف موجود ہیں بلکہ زبان ِ حال سے قاری کے ساتھ محو ِ گفتگو ہوتی ہیں۔ ان کا یہ کمال اس تازگی میں ہے جو پیش پا افتادہ اور گھسے پٹے ہوئے استعاروں، اسلوب میں غزل کی فارمولا زبان اور اس کے ساتھ لگی بندھی ہوئی اضافتیں اور تراکیب سے گریز ہے، بلکہ فرار ہے، یعنی راقم الحروف کو ان نظموں میں تو دور دور تک ان کی منحوس شکل دکھائی نہیں دی۔
یہ بات درست ہے کہ ان نظموں کا لہجہ نہ صرف فی زمانہ اردو کے شعری اسلوب مختلف ہے،بلکہ sentence structure کوبغور پرکھنے کے عمل میں بھی کہیں کہیں یہ شائبہ ہونے لگتا ہے کہ شاعر اندرون ِذہن شعر کے مضمون کو اپنی مادری زبان یعنی ترکی میں الفاظ کا جامہ پہناتا ہے اور پھر اس تخلیق کو جو ابھی صفحہ ٴ قرطاس پر منتقل نہیں ہوئی، اپنی تخلیقی قوت اور ذو جہت زبان دانی کے بل پر اردوکاملبوس زیب ِ تن کرنے کے لیے آمادہ کرتاہے۔ ایک زبان سے دوسری میں ترجمہ کاری کا یہ ایک مسّلم اصول ہے کہ لفظی ترجمہ کئی بار لا یعنیت کی حد کو نہ چھوئے لیکن اگر موضوع اور متن کو اس کی اصل خوشبو گنوائے بغیر ایک دوسری زبان میں منتقل کرنا ہو، تو یہ ترجمہ ٹرانسلیشن ہوتے ہوئے بھی ٹرانس کری ایشن بن جانے پر خود کو مجبور پائے گا۔ اگر ذہن سے کاغذ پر انتقال کے وقت اس صورتِ حال سے فرار ممکن نہیں ہے تو ذو لسانی یا سہ لسانی شعرا کو، جوایک سے زیادہ زبانوں میں شعر کہنے کی قدرت رکھتے ہیں، ہمہ وقت اس سے نپٹنا پڑے گا۔

سٹینلے فِش پوچھتا ہے، ” الفاظ جو کہ حروف کا مجموعہ ہیں، کیا کرتے ہیں؟ “ اور پھر خود ہی جواب تجویز کرتا ہے کہ” الفاظ معانی کو متشکل کرتے ہیں۔“ ایک ماہر لسانیات کا یہ فرمان یقیناً قابل قبول ہو گا کہ ’لفظ‘، اوراس لفظ کا کسی بھی جملے میں پیوند ایک خاص کاکردگی کا جنم داتا ہے۔ لفظ اپنی آماج گاہ، یعنی جملے کے سیاق و سباق میں کیا کرتا ہے، اور اگر اس کی شکل و صورت بدل دی جائے یا زمانی اعتبار سے اس کا چلن مختلف ہو، توکس طرح کی غلط فہمی کا احتمال ہے، اس بات کا جواب بھی تخلییق کے خلق ہونے کے عمل میں ہے۔ شعری تجربے کی بھول بھلیاں سے شاعر جب گزرتا ہے تو اس کے تخلیقی ذہن میں عمل اور رد ِ عمل کی ایک زنجیر سی بنتی چلی جاتی ہے۔اسے زبان دینے کے لیے کئی بار زبان کی شکست و ریخت لازمی دکھائی دیتی ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو زبان ایک جامد اور ٹھوس وجود کی حامل ہو جائے گی۔ شعر کہنے کا فن یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ شکست و ریخت اور نئی بنیاد و ایجاد اس عمارت سازی کی شکل میں ظاہر ہوں جس سے زبان اس شعری تجربے کی صحیح معنوی نمائندگی کی اہل ہوجو شاعر کے ذہن میں ’فرضیت کو خلق کرتا ہے اور فرضیت کی عدم قطیت میں دلچسپی لینے کے عمل سے اپنا جواز حاصل کرتا ہے۔‘زبان کے استعمال میں ’قطیعت‘ سم ِ قاتل ہے۔ ہندی کوی کہتے ہیں کہ زبان کے ساتھ ’کھلواڑ‘ ضروری ہے تا کہ وہ اس سے نیا اور تازہ خون حاصل کر سکے۔

میں خود اردو، ہندی، پنجابی اور انگریزی میں نظمیں لکھتا ہوں۔ اردو، ہندی اور پنجابی کی جملہ سازی ایک ہی لسانی اصول پر استوار ہے اور مجھے زیادہ تردد نہیں کرنا پڑتا، لیکن انگریزی نہ صرف ایک مختلف پیٹرن کا احاطہ کرتی ہے، بلکہ بعض اوقات یہ پیٹرن اردو، ہندی یا پنجابی کی نفی بن کرظاہرہوتا ہے۔ اسی لیے ہندوستان کے انگریزی میں لکھنے والے شاعروں کو Indo-Anglian Poets کا لیبل دیا گیا ہے۔جب کہ انگلستان کے وہ شعرا جنہوں نے اپنے وقتوں میں ہندوستانی تہذیب، رہن سہن کے موضوعات پر انگریزی اور ’دیسی‘ کے اختلاط سے اپنے ادب پارے تخلیق کیے، انہیں Anglo-Indian Poets کہا گیا۔اس لیے یہ ایک قدرتی امر ہے کہاایک ترک نژاد اردو شاعر ترکی صرف و نحو اور تصریفی و قواعدی طرز بیان میں اپنے فکر کے اظہار کو سموئے اور پھر ذہنی سطح پر ہی اردو میں ان کا ترجمہ کرتے ہوئے عبارت آرائی اور مصطلحات میں نہ بھٹک جائے۔ لیکن زیر بحث امر میں مندرجہ ذیل جملوں کو خالص فصیح بیانی کے ذیل میں شمار نہ کر کے ان کوشاعری میں تلطیف عبارت Eupheismکی فہرست میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔

 مرجھانے کا ڈر ہو اگر / دھوپ کی شدید گرمی سے / ہاتھ تو پھیلائیں اس کے اوپر / گل ِ محبت کے بچاؤ کی خاطر۔
کیونکہ الٹے نصیبوں کو بدل دیتی ہیں / لاچار زخموں کی دوا ہوتی ہیں / اکٹھے دھڑکیں دل تو اگر / فکر ِ واحد کی تخلیق کی خاطر

مجھے اس بات سے سروکار نہیں ہے کہ مروجہ روز مرہ کے مطابق ’ہاتھ پھیلانا‘ ایک الگ معنی میں استعمال ہوتا ہے، اور ’لاچار زخموں‘ میں صفت ’لاچار‘موزوں اس لیے نہیں ہے کہ یہ ’لا علاج‘ کا صحیح متبادل نہیں ہے۔ ہاں اس بات سے سروکار ضرور ہے کہ چونکہ ہم نے عربی اور فارسی سے کچھ الفاظ، اصطلاحات اورمروّجہ محاورہ اور اسلوب اپنی بول چال میں قبول کر لیے ہیں، کئی بار یہ د یکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ عرب اور عجم سے ہندوستان تک کے سفر میں اور پھر یہاں کی بود و باش میں ان کی شکل و صورت اور، نک سکھ اور عادات و اطوار میں کتنی تبدیلیاں آ گئی ہیں۔


ہر ایک تجربہ شعری نہیں ہوتا۔ شعری تجربہ زبان کی سطح پر نمودار ہونے والا ایک ایسا حادثہ ہے، جس کے لیے پہلے کوئی تیاری نہیں کرنا پڑتی (اس تھیوری کا اطلاق شاید صنف غزل پر، جو ایک مصنوعی صنف ِ شعر ہے پوری طرح نہ کیا جا سکے)۔ زبان سے عبارت اس متن میں معنی کا ایک ہلکا سا پرتو موجود ہوتا ہے، پھر شاعر اسے اپنی زباندانی کے توسط سے شعری اظہار کے کُلی معانی سے ہم کنار کرتا ہے۔ جب شعر مکمل ہو چکتا ہے تو شاعر سے یعنی اپنے خالق سے ظہور پذیر ہو چکنے والی شعری تخلیق کا کوئی رشتہ باقی نہیں رہتا۔ اب شعر خود میں ہی ایک ایسی اکائی، ایک ایسی سالمیت ہے، جو آزاد ہے، خود کفیل ہے، اور اسے پڑھنے والا اپنے ذوق، استعداد اور زبان کی تربیت کی بنیاد پر اس کے معانی کو سمجھ کر قبول کرتا ہے۔ اس لیے مجھے خلیل صاحب کے ایسے جملوں کی اختراع اور تدوین پر کوئی اعتراض نہیں ہے، میں تو اردو کے لیے اسے اک مبارک فال سمجھتا ہوں۔ کسی چیز کے اوپر ہاتھ ”پھیلا“ کر اس پر سایہ کرنا، اسے تحفظ دینا، اسے دھوپ، بارش اور گرد سے بچانا، میرے لیے اتنا ہی با معنی ہے، جتنا کہ ”ہاتھ پھیلانا“ یعنی بھیک مانگنا یاکوئی چیزلینے کے لیے ہاتھ آگے بڑھانا کے معنی میں ہے۔

خلیل صاحب کی دوسری شعری تصنیف ’آخری فریاد‘ہے۔ یہ شعری مجموعہ 2007ء میں منصہٴ شہود پر آیا۔ پہلے مجموعے کے اشاعت پذیر ہونے اور دوسرے کے منظر عام پر آنے کے درمیانی وقفے میں ایسے لگتا ہے جیسے خلیل صاحب کی توجہ کراچی سے ہٹ کر لاہور پر مبذول ہو گئی ہو۔ یہ مجموعہ لاہور سے چھپا، اس پر سیکرٹری جنرل رائٹرز ایسوسی ایشن لاہور جناب اظہر غوری صاحب کا فلیپ درج ہے اور اس کا دیباچہ بھی اردو کے معروف استاد اور نقاد ڈاکٹر ضیا الحسن (پنجاب یونیورسٹی، لاہور) کا تحریر کردہ ہے۔ اس مجموعے میں حمد و نعت، قطعہ، غزل،نثری نظم وغیرہ سبھی اصناف ِ شعر موجود ہیں۔
   
میں صنف غزل سے ہی بات شروع کرتا ہوں۔ روایتی غزل کے مضامین بین المتونیت intertextuality کی سطح پر لگ بھگ ایک ہی فہرست سے مستعار تسلیم کیے جانے میں کوئی قباحت نہیں۔ مثتثنیات میں غالب اور شاید میر تقی میر کسی حد تک آ سکتے ہیں، لیکن کلاسیکی اور نیم کلاسیکی روایت میں نہ صرف مضامین بلکہ استعارے کی سطح پر ان کی contiguity ایک مسلمہ امر ہے۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے پہلے پچاس سالوں میں کسی بھی استاد شاعر کی کلیات اگر اٹھا کر دیکھی جائے اور اس میں مضامین کا چارٹ ترتیب دیا جائے تو ان کی تعداد ایک سو سے کم ہی نکلے گی۔ اسی طرح اگر استعارات کی آمد و شد کو ایک الگ frequency chart میں رکھ کر اس سے flow chart  اخذ کر لیا جائے تو contiguity and freqeuncy میں ان کی تعداد بھی شاید ایک سو سے نہ بڑھ پائے۔ کچھ دیگر امور جو ہیں وہ آج بھی روایتی غزل گو شاعروں کے بارہا آزمودہ نسخوں کی طرح ہیں۔ ان میں حال اور مستقبل کے متعلق کلیتاً بے پروائی ہے، قفل بر لب سکوت ہے، تعطل اور جمود ہے اور صرف ماضی کے تئیں ایک خوش خیال رویہ ہے۔ روایتی غزل میں زندگی کے طبیعی اور مادی پہلوؤں کی طرف توجہ کا فقدان ہے۔ اگر اس میں رمزیت کا وجود ہے تو وہ بھی صرف روحانی یا غیر طبیعی حوالوں سے ہے۔ اشیا، اجسام اور طبیعی نقوش سے فرار ہے۔”غزلیت“ تین سطحوں پر در آتی ہے۔ اول تو قافیہ اور ردیف کی پابندی ہی ہے جو اسے آہنگ اور موسیقیت کا عنصر فراہم کرتی ہے، دوم یہ کہ بین المتونیت کے زیر اثرغزل صرف ان مضامین کو فوقیت دیتی ہے جو ذاتی وجدان کے عنصر سے مملو ہوں اور جن میں عقلیت اول تو سرے سے غائب ہی ہو، اور اگر ہو بھی تو برائے نام سی۔ سوئم یہ کہ غزل انسانی فطرت کو بھی رومانیت کے اصول کے تحت ڈھالتے ہوئے خود ترحمی کا شکار ہو تی ہے۔ اسم میں وہ ’قصّابیت‘ بھی شامل ہے، جس میں معشوق کا استعارہ ’قاتل‘ ہے۔

خلیل صاحب غزل کی روایت کی نفی نہ کرتے ہوئے ایسے مضامین اور استعارات کو تلانجلی نہیں دیتے جو پہلے لاکھوں بار اردو کی غزلیہ شاعری میں وارد ہو چکے ہیں، لیکن ترک نژاد ہونے اور ایک ملتی جلتی لیکن حقیقتاً مختلف تہذیب اور معاشرے میں آنکھ کھولنے اور زندگی گذارنے کے طفیل ان مضامین میں بھی اسلوب کی سطح پر تازگی دکھائی دیتی ہے۔ میں نمونتاً صرف کچھ اشعار ہی یہاں پیش کروں گا۔ملاحظہ فرمائیں۔

میں دشتِ عاشقی میں ہوں اک قیس ِ آوارہ
نہ لیلیٰ کی عنایت کی کبھی خواہش کروں گا میں

اس شعر میں ’دشتِ عاشقی‘ سے مراد یقینا ’دشتِ عشق‘ ہے، لیکن ترکی زبان کے لوازم کے مطابق مجاز ِ مرسل تقریباً ہر جگہ ممکن ہے، اور یہاں بھی یہی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔

”سیہ قسمتی سے شکایت نہیں، پر“اس مصرعے میں ’سیہ قسمتی‘ کاا ستعمال ’سیہ بختی‘ کانعم البدل ہے، لیکن اردو میں ’قسمتی‘ مستعمل نہیں ہے، حالانکہ ’بخت‘اور’قسمت‘ بتدریج فارسی اور عربی سے اردو میں وارد ہوئے ہیں اور قواعد کے اصولوں کے مطابق ’یائے معروف نسبتی‘، (جیسے پاکستان سے پاکستانی، ایران سے ایرانی وغیرہ) بر صغیر میں فارسی، عربی اور ہندی الفاظ کے اشتراک سے عام بول چال میں استعمال کی جاتی ہے۔
 
یہ اشعار اور دیگر اس قماش کے اشعار خلیل صاحب کی غزلیہ شاعری میں قدم قدم پر ملتے ہیں۔ ان میں ایک عجیب سی تازگی ہے، غیریت میں بھی اپنایت ہے، اور ایسے لگتا ہے جیسے موصوف ایک نئی تحریک کو شروع کر رہے ہوں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ خلیل اردو غزل کی جکڑ بندیوں سے بے نیاز ہیں اور یہ صنف جس ڈھنگ سے اردو میں مروج ہے،اس کے تحت یہ کہا جا سکتا ہے کہ لفظیات کی سطح پر اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔اس سے یہ مراد نہیں کہ خلیل صاحب کی شعری حسیت خود آگاہ نہیں ہے۔ اگر ان کا ’جلوہ‘ دیکھنا مقصود ہے تو ان کی نثری نظموں کو ایک نظر دیکھنا بے حد ضروری ہے۔ ان نظموں میں ان کے فکری نظام،اور اس کے شعری اظہار میں تجرد اور تطّور کا امتزاج ملتا ہے۔ ایک ایک سطر میں بسا اوقات ظاہری مفاہیم اور امکانی مفاہیم کی آمیزش ملتی ہے۔ کسی ایک معنی پر مرتکز ہونا تو نظم کا ہنر ہے ہی لیکن اگر شاعر آہنگ کی مناسبت سے نثر اور نظم کو جوڑنے والے پل صراط کے جوکھم کو کاٹ لے تو وہ کثیر المعنیاتی امکانات کا اہل بھی ہو سکتا ہے۔

مجھے یہ کہنے میں بھی عار نہیں کہ اس لحاظ سے خلیل صاحب کا پہلا شعری مجموعہ دوسرے شعری مجموعے سے کچھ زیادہ خود کفیل ہے۔میں نے دونوں مجموعوں کا بہ نظرِ غور مطالعہ کیا ہے۔ مدرسہ اور جامعہ کی سطح پر تحقیق کرنے کے تجربے میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی شاعر کی تخلیقات کو زمانی پیمانوں سے بھی ماپا جائے کہ وقت کے رہتے رہتے ان میں کیا تبدیلیاں ظہور پذیر ہوئیں۔ اس لحاظ سے ”ایک قطرہ آنسو“، یعنی ان کا پہلا شعری مجموعہ، ”آخری فریاد“ یعنی ان کے دوسرے شعری مجموعے پر سبقت لے جاتا ہے۔ وجہ نا معلوم لیکن یہ بات خلیل صاحب کے لیے ایک لمحہ ٴ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہے۔کیا وجہ ہے کی اس مجموعے کی نثری نظمیں موضوعاتی اور اسلوبیاتی سطحوں پر اعلےٰ پائے کی ہونے کے علاوہ نامیاتی وحدت کے بھی عمدہ نمونے ہیں جبکہ دوسرے مجموعے میں کچھ کمیاں رہ گئی ہیں۔ ’ایک قطرہ آنسو’ سے کچھ اقتباسات پیش کررہا ہوں۔

ایک قطرہ پانی کا ہوں میں
نہ بو ہے میری، نہ ہی رنگ میرا
لا تعداد ہم جنسوں کے بیچ میں ہوں
مجذوب!
نقش قدم نہیں پیچھے   
 نہ نمائندہ راہ ہوں آئندہ کا
       
   
ہزاراں نشانوں میں میرا نشان ہے مفتود       
پریشان ہیں افکار
کچل رہی ہیں دماغ مالایعنیات
لیکن پھر بھی میں ہوں سوچنے پر۔ مجبور
   
اگر قاری یا نقاد ایک لمحے کے لیے عجیب الصوت یا ہم عصر اردو میں غیر مستعمل اصطلاحات۔ نمائندہ ٴراہ، ہزاراں، مالایعنیات۔ سے در گذر کرے تو اسے یہ دیکھنے پر مجبور ہونا پڑے گا کہ شاعر کا مرکزی استعارہ پانی کاایک قطرہ ہے اور اس اعلان ”ایک قطرہ پانی کا ہوں“کے بعد وارد ہونے والے سبھی امیج اس قطرے کی صفات پر دال ہیں جو کہ شاعر خود ہے۔ اور آخری سطر ”لیکن پھر بھی ہوں سوچنے پر مجبور“ تابوت میں آخری کیل کی طرح آتی ہے۔ یہ پانی کا قطرہ (مادہٴ تولید کا اشارہ یا کنایہ)، بو، رنگ (عناصر ِ خمسہ میں سے دو عدد) نہیں رکھتا۔ اس کا وجود لاکھوں دیگر پانی کے قطروں میں جذب ہے۔ اس کا کوئی ماضی نہیں (نقش ِ قدم نہیں پیچھے)، کوئی مستقبل نہیں (نہ نمائندہٴ راہ ہو ں آئندہ کا )، لیکن یہ قطرہ یا خلیہ سوچنے، فکر و تردد میں غرق ہو نے کی صلاحیت رکھتا ہے، یعنی انسان ہے۔

کچھ اور نظمیں بھی اسی قماش کی ہیں،جن میں آخری سطر یا دو تین سطریں punch lines کی طرح وارد ہوتی ہیں۔ میں زیادہ مثالوں سے گریز کرتے ہوئے صرف دو نظموں کا ذکر کروں گا۔

زخمی تصورات کا بے لگام گھوڑا
اضطراب سے پاگل، ایک مجنوں جیسا
ایوان ِ خیال کی بّلور سرحدیں
پار کر کے انجانی کہیں
دور دراز فضاؤں کی پہنایوں میں
کھو جانے کی ٹھان لیے ہوئے
تمامتر سرعت و تیزی کے ساتھ
ہواؤں سے جیسے کرتا ہے بات
جیسے اسے ایک شفا بخش دست کے
چھو جانے سے شفا یابی کا ڈر ہو!

یہ دس سطریں ایک نظم بعنوان ”کہتے ہیں“ کا آخری ٹکڑا ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو سب سطریں مل کر صرف ایک جملے کی تکمیل کرتی ہیں۔ یہ جملہ ’زخمی خیالات کا بے لگام گھوڑا‘ سے شروع ہوتا ہے اور آخری سطر کے آخری لفظ تک چلتا جاتا ہے۔ یہ ایک متحرک بصری تمثال ہے۔ بے لگام گھوڑا ’ایوان ِ خیال‘ کی سرحدیں پار کرتا ہے، اس نے ٹھان لی ہے کہ دور دراز کی پہنایئوں میں اڑتا چلا جائے گا، ہواؤں سے بات کرتا جائے گا اور ٹھہرے گا کہیں نہیں۔ کیوں نہیں؟ اس کا جواب آخری دو سطروں میں ہے۔ ہمیں پہلی سطر سے معلوم ہوتا ہے کہ بے لگام گھوڑا کوئی عام اسپِ ِتازی نہیں ہے۔’زخمی تصورات“ کا گھوڑاہے۔ ایک ذہین قاری کے طور پر میں خود سے وہ سوال دوبارہ پوچھتا ہوں،” تصورات کا ہیولیٰ سیماب پا برق رفتاری سے کیوں اڑتا جا رہا ہے؟ ٹھہرتا کیوں نہیں؟“ اور جواب کے لیے اس ٹکڑے کی پہلی دو سطروں کی طرف لوٹتا ہوں۔ تو مجھے علم ہوتا ہے کہ زخمی تصور تو اپنے زخم برقرار رکھنا چاہتا ہے، اسے شفا کی تلاش نہیں۔ اور اسی لیے شاعر اس لمبے جملے کو ان الفاظ پر ختم کرتا ہے

جیسے اسے ایک شفا بخش دست کے
چھو جانے سے شفا یابی کا ڈر ہو!

کلاسیکی، نیم کلاسیکی اور دور ِ حاضر کا روایتی شاعراس مضمون سے واقف ہے۔ زخم کی کسک میں لذت ہے۔ اگر غالب کہتا ہے، ’زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا؟‘ تو وہ اسی مضمون کو دہرا رہا ہے، لیکن نثری نظم کے اس ترکی شاعرنے جس خوبصورتی سے اس متحرک بصری تمثال کو پیش کیا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔

آخری نظم جس کا میں ذکر کرنا چاہوں گا،ایک مختصر نظم ہے جو خود میں ہی ایک مکمل استعارہ ہے، حتےٰ کہ ہم آخری دو سطروں تک پہنچتے ہیں اور تب ہمیں جذبہ اور خیال کی آمیزش کے ساتھ اس بصری پیکر تراشی کے فن سے عبارت تصویر کے اصل معانی سمجھ میں آتے ہیں۔

پہلے وار میں میرے بالوں پر وہ
سفید لکیریں کھینچ گیا
دوسرے وار میں چھوڑ گیا کندھوں پہ
ایک ایسا بوجھ جو اٹھانے سے نہیں اٹھتا
تیسرے وار میں بیٹھ کر سینے پہ مرے
بند کر گیا میری سانس۔۔۔۔

پیر ِ تسمہ پا کی اسطوری کہانی ہم سب کے اجتماعی لاشعور میں کہیں نہ کہیں موجود ہے۔ جونہی ہم” بیٹھ کر سینے پہ مرے“ پر پہنچتے ہیں تو (جیسے کہ کارل ینگ نے واضح کیا ہے) ہمارا لا شعورایک ایسی اسطوری wake-up call ہمیں دیتا ہے۔ کہ ہم ایک کمزور و مجبور، بے سہارا انسان کا تصور کرنے لگتے ہیں، جو ہم خود بھی ہیں اور شاعر کا واحد متکلم بھی ہے۔ داستان گوواحدمتکلم پر اب تک، تذکرہ نویسی کی پرانی روایت کے عین مطابق ہی، تین وار مکمل ہوچکے ہیں۔ اب چوتھا وارہونے کو ہے۔

ایک اور وار کب کرے گا مجھ پر
اس بات کو نہ وہ کہتا ہے، نہ میں پوچھتا ہوں

ظاہر ہے کہ چوتھا وارموت کا ہے۔ شاعر یہاں غالب کے اس شعر کی باز گشت میں مندرجہ بالا سطریں گنگناتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
 ہو چکی غالب بلائیں سب تمام
ایک مرگ ِ ناگہانی اور ہے!

غالب ہی کا ایک اور مصرع اسی خیال کو زیادہ شدت اور بے باکی سے نظم کرتا ہے:

اے مرگ ناگہاں، تجھے کیا انتظار ہے؟
                   
وقت ہے کہ اب خلیل صاحب کے دوسرے شعری مجموعے کو، خصوصی طور پر اس کی نثری نظموں کو بھی، ایک نظر دیکھ لیا جائے۔یہ مجموعہ ضخامت میں پہلے مجموعے سے بڑا ہے، لیکن کیا وقعت و وقار میں اس سے بڑا ہے، اس پر فی الحال میں ایک سوالیہ نشان لگا دیتا ہوں۔یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس مجموعے کی اگر ساری نظموں میں نہیں، تو بھی بہت سی نظموں میں معانی کی ترسیل براہ ِ راست ہے اور ہو بہو تصاویری مفاہیم کی رسالت کے لیے امیجری وافر تعداد میں ہونے کے باوجود ایسے لگتا ہے، جیسے استعارے اور علامت سے لبریز پیکر سازی اور تمثال کو پہلے مجموعے کی نظموں کی نسبت سے پس پشت ڈال دیا گیا ہو۔ بہر حال اس سے مجموعے کی اہمیت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ ایک دو نظمیں پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

یہ سچی کہانی ہے

نہ ہاتھ میں ہے سُوکھی روٹی
نہ ہی ایک آدھ گلاس پانی
ہڈّیوں کا ڈھانچا بنی
رو رہی ہے چھوٹی سی بچی
آنکھوں میں حسرتیں بھرے
آگے پیچھے کوئی نہیں
شام تک ہی سہی، جینے کی
کوئی امید نہیں
یہ ہے غربت زدہ بچی
اس کی کہانی ہے سچی!

سیدھی سادی، سچّی، جذبات سے لبریز، دل کو چھو لینے والی ایک تصویر جس میں شاعر آخری چار سطروں میں خود بولتا ہے اور” کہانی ہے سچی “
کہہ کر اپنے فرض سے سبک دوش بھی ہو جاتا ہے۔

افریقہ کی آواز

زرافے کی گردن والو!
اک ذرا ادھر کو دیکھو
ہم یہاں کچلے جا رہے ہیں
تمہارے پاؤں کے تلے       
۔۔۔
تمہاری نظر مستقبل پہ ہے
ہونا کیا ہے، کرنا کیا ہے
ہم تو آج میں جی رہے ہیں
کل کی ہمیں خبر نہیں
۔۔۔
تم برساؤ آسمان سے
چاہے گولی چاہے میزائل!
ہم ترس کر مر رہے ہیں
ایک ایک قطرہٴ آب کے لیے!

آخری فریاد
آخری فریاد ہو گی یہ میری
ٓآخری آہ جو زبان سے نکلے گی
آخری شکایت ٹوٹے دل کی
آخری پرسش بجھی امیدوں کی
آخری حسرت اک نئی زندگی کی
آخری تلاش مٹی ہوئی یادوں کی
آخری فریاد ہو گی یہ میری
آخری خواہش، شہادت ہے میری!


تمثال سازی اور پیکر تراشی سے بے نیاز یہ دو نظمیں پڑھنے کے بعد دو تین وہ نظمیں بھی دیکھنی ضروری ہیں جن میں یہ وصف موجود ہے اور ایک مرکزی استعارہ جنہیں نامیاتی وحت یعنی Organic Unity میں باندھے رکھتا ہے

سوال

پوچھا میں نے شبنم سے
تیری عمر ہے کتنی
کہا اس نے مسکرا کر
کم سے کم تیرے جتنی
در حقیقت کم ہی سہی
دن اور رات کے حساب سے
پر راز ِ حق جاننے کے لیے
میری عمر ہے لمبی تجھ سے!

نوحہ

بہار کے پہلے دن
بلبل بیٹھی ہوئی ہے
نوحہ پڑھتی ہے
گلاب کے سرہانے
کیوں کہ اس کا انجام
 معلوم ہے آج اسے
 شادی کی پوشاک اتارنی ہو گی
ماتم کا ملبوس پہننا ہو گا
اس معصوم کو
مرجھانا ہو گا چند دنوں تک!

ان نظموں کو آخر میں لکھنے کی غرض و غایت یہ ہے کہ ڈاکٹر خلیل قوق اَر شاعری کے اس وصف سے بخوبی واقف ہیں جو پابند شاعری کو باقاعدگی سے تقطیع کی جا سکنے والی آزاد نظموں سے اور آزاد نظموں کو ”فری ورس“ (نثری نظم) سے الگ کرتا ہے۔ علامت، تشبیہ، اشارہ اورکنایہ تو روز اول سے ہی شاعری کی صفات رہی ہیں لیکن بیسویں صدی تک آتے آتے یہ محسوس کیا جانے لگا تھا کہ رمز، استعارہ، علامت،تلطیف عبارت یعنیeuphemism اور پیرایہٴ کلام میں تعریف و وضاحت کی جگہ، عقدہ کشائی کی کلید دیے بغیر، استنباطی، تلمیحی اور استعاری لہجہ اختیار کرنااس لیے ضروری ہے کہ زندگی خود ہی کثیر الجہاتی ہو چکی ہے اور شاعری میں اگر تفسیر و تبصرہ ہو تو وہ شاعری نہ ہو کر کوئی اور ہی صنف ہو گی۔ رمز اور استعارے کو ژولیدہ، مخلوط اور مبالغہ آمیز پہیلی بنا دینا بھی معیوب ہے لیکن صاف بیانی اچھے مقررکا وصف تو ہے،شاعر کا نہیں۔ اقبال نے یونہی تو نہیں کہا تھا:

 شریعت کیوں گریباں گیر ہو میرے تکلم کی
چھپاجاتا ہوں میں باتوں کا مطلب استعاروں میں

اس طویل مضمون کے آخرمیں روایت کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ میں خلیل صاحب کی مدح میں کچھ کہوں، لیکن یہ خوش گوار فرض خود ادا کرنے کی خواہش سے پرہیز کرتا ہوا میں خود سے بہتر، اردو کے استاد اور نقاد، ڈاکٹر ضیا الحسن سے ان کے وہ الفاظ مستعار لیتا ہوں، جو ”آخری فریاد“ کے دیباچے میں انہوں نے تحریر فرمائے ہیں:

’خلیل طوق اَر کی کی شاعری دو زبانوں اور دو تہذیبوں کے تخلیقی عناصر کی یکجائی سے ظہور پذیر ہوئی ہے۔ ان کو پڑھتے ہوئے بار بار محسوس ہوتا ہے کہ
لمحہٴ تخلیق میں بھی وہ دو زبانوں کی تہذیبی سرزمینوں سے بیک وقت نمُو پذیری کی قوّت حاصل کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی شاعری میں مختلف فضا قائم ہوتی ہے۔ یہ فضا کسی مترجم کی بنائی ہوئی فضا سے اس لیے مختلف ہے کہ جہاں اس میں ترجمہ نگاری کے عناصر کار فرما ہیں، وہیں ساتھ کے ساتھ قوت ِ تخلیق بھی اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ خلیل طوق اَر ترک ذہن سے سوچتے ہوئے جب تخلیقی عمل سے گزرتے ہیں تو یہ تخلیقی عمل ترجمہ نگاری سے سِوا ہو جاتا ہے اور ایک نئے تخلیقی تجربے کی باز یافت بن جاتا ہے۔‘