ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

ادب و ثقافت RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

دہلی کے مسلم تاریخی آثار پر خطرات کے بادل

Qudsia Mosque in Delhi
فوٹو gashwin

دہلی میں قدسیہ مسجد کی حالتِ زار

شیئر کیجیئے

اگلے سال دہلی میں کامن ویلتھ کھیلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور اس کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں۔اس دوران دہلی پہنچنے والے لاکھوں تماشائیوں، کھلاڑیوں اور سیاحوں کو آثارِ قدیمہ کے دیدار سے بھی لطف اندوز ہونے کا موقع دیا جائے گا۔دہلی میں آثارِ قدیمہ کی بارہ سو عمارتیں ہیں اور ان میں سے 175کی آرائش و زیبائش کی جانی ہے۔ سرِ دست 46 عمارتوں کی تزئین کاری کا کام شروع ہو گیا ہے۔ان میں سے تین عمارتیں عالمی ورثے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ ہیں قطب مینار، ہمایوں کا مقبرہ اور لال قلعہ۔

قابلِ ذکر ہے کہ متعدد عمارتوں کے اندر یا قرب و جوار میں تاریخی مساجد اور قبرستان بھی ہیں۔جن میں قطب مینار کے احاطے میں واقع مسجد قوت الاسلام بھی ہے۔ اس کے علاوہ شیر شاہ دروازے کے پاس مسجد خیر المنازل بھی ان مسجدوں میں اہم مقام رکھتی ہے۔

پرانی دہلی اورنئی دہلی کے گرد و نواح میں واقع متعدد تاریخی عمارتوں اور مسجدوں پر خطرے کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔جن میں سر فہرست ہے دہلی کے سب سے بڑے بس اڈے آئی ایس بی ٹی سے متصل اور کشمیری گیٹ کے قریب واقع قدسیہ باغ اور قدسیہ مسجد۔ آج کل قدسیہ باغ کا نام بدل کر ایم ایم اگروال باغ رکھنے کی تیاری ہو رہی ہے۔قدسیہ باغ اور قدسیہ مسجد کی تعمیر محمد شاہ رنگیلا کی بیگم قدسیہ بیگم نے 1748ء میں کروائی تھی۔سینکڑوں ایکڑ زمین پر واقع باغ اور مسجد کو 1970ء میں دہلی وقف بورڈ کے تحت دے دیا گیا تھا۔مگر اس باغ پر آج بھی ان گنت لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔

شاہی مسجد و مدرسہ قدسیہ باغ میں تیس سال سے امامت کرنے والے مولانا نصیر احمد نے بتایا کہ اس مسجد میں 1748ء سے ہی پنج وقتہ نماز، نماز تراویح اور جمہ کی نمازیں ہو رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں مسجد سے متصل ایک مندر تعمیر کر دیا گیا ہے۔انھیں بھی اس کا علم نہیں ہو سکا کہ مندر کی تعمیر کب اور کیسے کر دی گئی، جب کہ اس سے قبل اس کا کوئی نام ونشان ہی نہیں تھا۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ باغ میں ایک کلب بھی بنا دیا گیا ہے جس میں شہر کے رئیس زادے اپنی شامیں گزارتے ہیں۔

یہ مسجد بھی آثارِ قدیمہ میں شامل ہے۔ حکام کی جانب سے مسجد میں نماز کی ادائگی پر تو شائد کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن دوسرے لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں اور اخبارات میں اس پر رپورٹیں شائع کی جاتی ہیں کہ اس میں نماز کیوں پڑھی جاتی ہے۔ لیکن وہ اس کا کوئی جواب نہیں دیتے کہ کس طرح قدسیہ باغ کے بیشتر حصے پر لوگوں نے قبضے کر رکھے ہیں اور کیسے ایک مندر تعمیر کر دیا گیا ہے۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ایک ٹینس کورٹ کی بھی تعمیر کر دی گئی ہے اور مالش کرنے والے وہاں برابر گھومتے رہتے ہیں۔یہاں پر کئی سرکاری عمارتیں بھی بنا دی گئی ہیں اور ایک ٹورسٹ لاج بھی قائم کر دیا گیا ہے جس کو ہر پانچ سال پر لیز پر دے دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ قدسیہ بیگم کو عمارتوں اور باغات کی تعمیر کا بہت شوق تھا۔اپنے دور میں قدسیہ باغ کی بڑی رونق ہوا کرتی تھی۔باغ میں بہت خوبصورت محلات، بارہ دریاں، فوارے اور نہریں تھیں۔ نہروں میں براہ راست دریائے جمنا سے پانی آیا کرتا تھا۔شام کے وقت یہاں شہزادے اور شہزادیاں چہل قدمی کیا کرتے تھے اور بیگمات ڈولیوں اور تانگوں پر آیا کرتی تھیں۔لیکن آج اس باغ کا نام ا یم ایم اگروال باغ رکھنے کی تیاری ہو رہی ہے،جس کی مخالفت زور دارانداز میں کی جا رہی ہے۔لیکن کیا حکومت کے کانوں پر جوں رینگے گی، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔