ہمیں کس طرح بھول جائے گی دنیا ۔۔۔ کہ ڈھونڈے سے ہم سا نہ پائے گی دنیا
آج بہزاد لکھنوی کا نام صرف چند مقبول گلوکاروں کے گائے ہوئے نغموں ہی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے لیکن وہ اپنے دور کے بے حد مقبول و معروف شاعر تھے۔
بہزاد لکھنوی کو نہ صرف اردو زبان پر زبردست دسترس حاصل تھی بلکہ انہیں ہندی، اودھی، فارسی اور عربی زبان پر بھی زبردست درک حاصل تھا۔ اسی لیے ان کی شاعری میں ان تمام زبانوں کے الفاظ ملتے ہیں۔ ان کی شاعری بھی صرف چند اصناف تک محدود نہیں ہے بلکہ انہوں نے غزل کے علاوہ نظمیں، بھجن اور فلمی گیت بھی خاصی تعداد میں لکھے۔ اپنے وقت میں انہیں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی اور ان کو لسان العصر کے خطاب سے یاد کیا گیا۔
بہزاد لکھنوی کے ایک درجن سے زائد شعری مجموعے ان کی زندگی میں ہی شائع ہو چکے تھے اور آخر عمر میں تو انہو ں نے اپنے آپ کو نعتوں تک محدود کر دیا تھا اور انہوں نے عشق رسول میں خوب ڈوب کر نعتیں لکھیں۔ اسی باعث انہیں زائر حرم کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔
بہزاد لکھنوی کی شاعری صرف لکھنئو کے خارجی عوامل سے متاثر نہیں ہے کیونکہ لکھنئو کی شاعری پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس میں خارجی باتوں کا ذکر زیادہ ملتا ہے لیکن بہزاد جہاں خارجی محاسن کا ذکر کرتے ہیں وہیں وہ داخلیت کی جانب کا سفر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں جہاں کلاسیکی رچاؤ ہے وہیں زبان کے محاسن کا چٹخارہ بھی ملتا ہے۔ انہو ں نے جہاں اپنے خیالات کو ذہن کی بھٹی میں تپایا ہے وہیں زبان کی چاشنی ان کے یہاں بدرجہ اتم موجو دہے۔ وہ کسی شاعر سے متاثر نہیں انہوں نے اپنی علیٰحدہ راہ نکالی تھی اور ہمیشہ اسی شاہراہ پر چلتے رہے۔ ان کی رومانی شاعری نے بہتیرے شعرا کو اس کی جانب راغب کیا اور وہ ان کی اتباع کرنے پر مجبور ہوئے۔
زبان پر زبردست دسترس کے سبب انہیں نثر لکھنے پر بھی قدرت حاصل تھی۔ انہو ں نے کئی کہانیاں لکھی لیکن خاص طور پر انہوں نے لکھنئو کی جو یاد داشتیں لکھیں ان میں زبان کا ذائقہ بڑی شدت سے ملتا ہے۔ خاص طور پر ان کے ایک کردار حکیم بڈھن کے حوالے سے انہوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ مطالعہ کرنے کی چیز ہے اور اس طرز نگارش کو تو کوئی فراموش کر ہی نہیں سکتا۔
بہزاد لکھنوی کی پیدائش1900ء میں لکھنئو کے ایک تعلیم یافتہ اور متوسط خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا ادبی حلقوں میں رہا اس لیے انہیں بچپن سے ہی شاعری کا چسکہ لگ گیا تھا اور اوائل عمری سے ہی انہوں نے اشعار موزوں کرنے شروع کر دیے تھے۔ پھر ادبی نشستوں میں حصہ لینے لگے اور جلد ہی ان کا نام ادبی حلقوں میں وقار کے ساتھ لیا جانے لگا۔ انہیں فلمی دنیا سے بھی بلاوے ملے اور وہ فلمی دنیا میں چلے گئے جہاں انہو ں نے ایک درجن سے زائد فلموں میں گانے لکھے اور ان کے گانے اس زمانے میں بے حد مقبول ہوئے جو بچے بچے کی زبان پر تھے۔ خاص طور پر ’آگ‘ فلم کے لیے مکیش کا گانا تو آج بھی سنا اور گنگنایا جاتا ہے:
زندہ ہوں اس طرح کہ غمِ زندگی نہیں
جلتا ہوا دیا ہوں مگر روشنی نہیں
وہ مدتیں ہوئی ہیں کسی سے جدا ہوئے
لیکن یہ دل کی آگ ابھی تک بجھی نہیں
یا پھر’آگ‘ فلم کا ان کا یہ گیت بہت ہی مقبول تھا:
دیکھ چاند کی اور مسافر دیکھ چاند کی اور
کہیں کا دیپک کہیں کی باتی آج بنے ہیں جیون ساتھی
دیکھ ہنسا ہے چاند مسافر دیکھ چاند کی اور
بہزاد کی بہت سی غزلوں اور گیتوں کو بیگم اختر نے اپنی آواز دے کر زندہ جاوید بنا دیا تھا۔ جیسے یہ غزل:
دیوانا بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے
ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنا دے
اے دیکھنے والوں مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو
تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے
بہزاد لکھنوی کی غزلوں اور گیتوں کو صرف بیگم اختر کی آواز نہیں ملی بلکہ زہرہ بائی امبالے والی، شمشاد بیگم، لتا منگیشکر، مکیش اور اس زمانے کے مشہور گلو کاروں نے گایا تھا اور ان کی یہ غزل تو تقریباً تمام گلوکار اور گلوکارائیں گا چکی ہیں۔ موجودہ دور میں اس غزل کو نیرہ نور نے امر کر دیا ہے:
اے جذبہٴ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آجائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آجائے
اے دل کی خلش چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آجائے
اے رہبرِِ کامل چلنے کو تیار ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بہکا دینا جب سامنے منزل آ جائے
ان کے علاوہ بھی متعدد ایسے گیت اور بھجن ہیں جو بچے بچے کی زبان پر تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج فلمی یا ادبی دنیا میں کہیں بھی بہزاد لکھنوی کا ذکر نہیں آتا۔ فلمی دنیا تو خیر فراموش کردہ لوگوں کی دنیا ہے چونکہ اس کا تعلق سلولائڈ سے ہے اور سلولائڈ کی عمر ہی وقتی ہو تی ہے۔ اس لیے فلمی دنیا میں اگر کسی ادیب اور شاعر کو فراموش کر دیا جاتا ہے تو یہ کوئی اہم بات نہیں ہے لیکن طویل شعری و نثری خدمات کے باوجود بہزاد لکھنوی کی خدمات کو فراموش کر دیا گیا تو یہ اپنے آپ میں ایک عبرت کا مقام ہے۔ حالانکہ بہزاد کا اپنے بارے میں خیال یہ تھا:
ہمیں کس طرح بھول جائے گی دنیا
کہ ڈھونڈے سے ہم سا نہ پائے گی دنیا
بہزاد لکھنوی کا انتقال دس اکتوبر سنہ 1974ء کراچی میں ہو گیا اور ان کا مقبرہ وہاں کی ایک بڑی شاہراہ پر قائم ہے جسے شاہراہِ بہزاد کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔