ٹیکسٹائل ڈیزائن کے پاکستانی طلباوطالبات انڈونیشیائی فن کاروں کا کام دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے
جمہوریہ انڈونیشیا کی طرف سے الحمرا آرٹ سینٹر لاہور میں باتیک آرٹ اور قرآنی خطاطی کے نمونوں کی نمائش کا اہتمام کیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ وہاں باتیک ماسٹربھی آئے تھے جنہوں نے ٹیکسٹائل ڈیزائن کی تعلیم حاصل کرنے والے تین درجن سے زیادہ پاکستانی طلباوطالبات کو باتیک آرٹ کی ورکشاپ میں تربیت بھی فراہم کی۔ خیال رہے کہ لاھور کے چند تعلیمی اداروں میں جن میں نیشنل کالج آف آرٹس اور بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی شامل ہیں، باتیک آرٹ کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔
پنجاب آرٹ کونسل کی آرٹ گیلری کی نگران تانیہ سہیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستانی طلبا وطالبات انڈونیشیا کے ماہرین کو کام کرتا دیکھ کر حیرت میں پڑ گئے تھے۔ اُنہوں نے کہا باتیک آرٹ میں موم کا استعمال اس انداز میں ہوتا ہے کہ کپڑے یا سلک پر جہاں موم لگا دی جاتی ہے وہ حصہ رنگ سے محفوظ رہتا ہے اور یوں ڈیزائن بنتا جاتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ تربیتی ورکشاپ کے دوران باتیک ماسٹر نے ایسے ماہرانہ انداز میں موم کا استعمال کیا کہ طلبا وطالبات کی اُس میں دلچسپی قابلِ دید تھی۔ ایک سوال کے جواب میں تانیہ نے کہا کہ باتیک آرٹ انتہائی محنت طلب کام ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہ آرٹ کافی مہنگا ہوتا ہے۔
انڈونیشیا کی حکومت کی طرف سے اس نمائش کا جو تعارفی کتابچہ شائد ہوا ہے اُس میں تحریر کیا گیا ہے کہ انڈونیشیا اور پاکستان دو سب سے بڑے اسلامی ملک ہیں اور مذہب کے ساتھ ساتھ ان دونوں ملکوں میں خطاطی اور فیبرک کے ساتھ محبت بھی پائی جاتی ہے۔ انڈونیشیا کے لوگوں نے فیبرک کے ساتھ اپنی محبت کو باتیک آرٹ کی شکل دی ہے اور اس تکنیک سے انڈونیشیا میں بہت خوبصورت لباس تیار کیے جاتے ہیں۔
نمائش میں انڈونیشیا کے قرآنی خطاطی کے نمونے بھی رکھے گئے اور پاکستانی خطاطوں نے اپنے فن پارے بھی ان نمونوں کے ساتھ نمائش میں رکھے۔ اس طرح اس نمائش میں باتیک آرٹ کے نمونے اور پاکستان اور انڈونیشیا کے خطاطوں کے فن پارے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہے مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ ٹیکسٹائل ڈیزائن کے طلبا وطالبات باتیک آرٹ کی تربیتی ورکشاپ میں انڈونیشیا کے ماہرین فن کو داد دیتے رہے اور اُن کی تکنیک سیکھنے کی کوشش بھی کرتے رہے۔
پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر نے بھی اس نمائش میں شرکت کی اور اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ انسانی تہذیب وثقافت کی ترقی کے لیے آرٹ کی ترقی ایک لازمی امر ہے اور آرٹ کی مختلف شکلیں کسی بھی ملک میں اُس کی ثقافت کے تنوع کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے باتیک آرٹ کو بین الاقوامی سطح پر انڈونیشیا میں پروان چڑھنے والی آرٹ فارم کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔