ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

ادب و ثقافت RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

جو تھی کل دنیاکی دولت مند شخصیت۔۔۔

Osman Ali Khan, Asaf Jah VII

عثمان علی خان آصف جاہ سابع

شیئر کیجیئے

اسے نظامِ قدرت ہی کہا جائے گا کہ وقت کے ساتھ حالات تبدیل ہوجاتے ہیں۔ وقت کا پہیہ جب چلتا ہے تو عروج زوال اور زوال عروج بن جاتا ہے۔ دنیا کی آنکھوں نے یہ منظر بھی دیکھے ہیں کہ جو کل تک دولت مند ترین افراد میں شمار کیے جاتے تھے آج ان کی شناخت برقرار رکھنا ہی مسئلہ بن چکی ہے۔

حیدرآباد دکن میں مملکتِ آصفیہ کے آخری فرماں رو نواب میر عثمان علی خان ایک زمانے میں دنیا کے دولت مند افراد ترین شخص تھے۔ یہی نہیں بلکہ ان کا شمار تاریخ کے دولت مند ترین افراد کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہوتا ہے۔ 1937ء میں ان کے مجموعی اثاثوں کا تخمینہ موجودہ کرنسی میں 225 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس کے مقابلے پر اس وقت دنیا کے امیر ترین فرد بل گیٹس ہیں جن کے پاس 40 ارب ڈالر کے اثاثے ہیں۔
لیکن آصف سابع غیر معمولی دولت مند ہونے کےساتھ ساتھ غیر معمولی طور پر فیاض بھی تھے، جس کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ لیکن آج اسی بادشاہ کی یاد باقی رکھنے کے لیے حکومت کے پاس فنڈز نہیں ہیں۔آصف سابع کی ایک یادگار فلم اپنی بحالی کے لیے کئی برسوں سے حکومت کے رحم و کرم کی منتظر ہے۔

نواب میر عثمان علی خان تاریخی عمارتوں، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی شکل میں کئی یادگاریں چھوڑی ہیں لیکن آج اسی حکمراں کی اپنی ایک یادگار کے تحفظ میں فنڈز کی کمی رکاوٹ بن چکی ہے۔ عثمان علی خان کی تخت نشینی کی سلور جوبلی تقاریب پر مشتمل یادگار فلم اسٹیٹ آرکایئوز میں خستہ حالت میں پڑی ہے۔72 سال قدیم اس فلم کو بحال کیا جائے تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک تاریخی اثاثہ بن سکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کی بحالی کے لیے خطیر روم کی ضرورت نہیں بلکہ صرف چندلاکھ روپئے درکار ہیں، اور کسی بھی حکومت کے لیے یہ رقم معمولی ہی ہوگی۔ آپ نے شاید یہ خبر سنی ہو کہ ریاست اتر پردیش کی وزیرِ اعلیٰ 26 ارب روپے کی خطیر لاگت سے ریاست میں مشاہیر کے مجسمے تعمیر کروا رہی ہیں، جن میں ان کے اپنے مجسمے بھی شامل ہیں۔ اس کے مدِ نظرسابق نظام حیدرآباد کے خانوادہ سے تعلق رکھنے والےافراد کو حکومت کی اس عدم توجہی پر حیرت کے ساتھ غصہ بھی ہے۔

فروری1937ء میں میر عثمان علی خان کی تخت نشینی کی سلور جوبلی تقاریب تزک و احتشام سے منائی گئی تھیں،جو کئی دن تک جاری رہیں۔ان تقاریب کے لیے خاص طور پر جوبلی ہال کی خونصورت عمارت تعمیر کی گئی تھی۔ان تقاریب کی یادگار صرف یہی ایک فلم ہے۔

اس تاریخی فلم کی بحالی کے لیے نیشنل آرکایئوز آف انڈیا سے امیدیں وابستہ کی جارہی ہیں۔اس ادارے کی جانب ملک کے عجائب گھروں کو تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔گذشتہ آٹھ برسوں سے اس ادارہ نے کوئی فنڈز جاری نہیں کیا۔بتایا جاتا ہے کہ 2001ء میں نیشنل آرکایئوز نے ساڑھے چھ لاکھ روپئے جاری کیا تھا لیکن صوبائی حکومت نے اسے خرچ نہیں کیا، جس کے بعد فنڈز جاری نہیں ہوا۔

اسٹیٹ آرکایئوز کے ذرایع نے بتایا کہ نظام حیدرآباد کی فلم کی بحالی کے لیے حکومت کو بارہا توجہ دلائی گئی ہے لیکن جواب کا انتظار ہے۔ جس حکمراں کے ایک اشارہ پر خزانے کے منہ کھول دیے جاتے تھے اسی حکمراں کے ساتھ آج کے حکمرانوں کا یہ رویہ ہرکسی کے لیے باعث حیرت ہے۔