ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

ادب و ثقافت RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

آدھی رات کا سورج ۔۔۔ 15ویں قسط: کیسی بلندی کیسی پستی

یوسف بن تاشفین اور المتمد کے درمیان ہونے والی کشمکش کی داستان

Andalusian King Al-Mutamid

المتمد ابن عباد اپنے محل میں

شیئر کیجیئے

زلاقہ عربی میں پھسلواں زمین کو کہتے ہیں۔ اور جنگِ زلاقہ کا یہ نام اس لیے پڑا کہ اس دن اس قدر خون بہا کہ زمین پر پاؤں جما کر چلنا محال ہو گیا تھا

اس سے پہلے کہ ’آدھی رات کا سورج‘ کی پندرھویں قسط پیش کی جائے، میں قارئین کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں جنھوں نے اس سلسلے کو سراہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ تاخیر پر بھی معذرت، اس وعدے کے ساتھ کہ آئندہ اقساط جلدی جلدی پیش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

ایسی بلندی ایسی پستی: اشبیلیہ کا شاعر بادشاہ المعتمد

23 اکتوبر 1086 کی اس سہ پہر ہماری مشترکہ فوج اور الفانسو کے درمیان گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔ ہر طرف تلواریں، بھالے اور برچھے بجلیوں کی طرح چمکنے لگے اور تیر سروں پر طوفانی ہواؤں کی طرح سائیں سائیں کر تے گزرنے لگے۔

میرے جاں باز سپاہی اور دوسرے اندلسی طائفوں سے آئے ہوئے دستے بے جگری سے لڑے، لیکن الفانسو کی فوج کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا پر بند باندھنا آسان کام نہیں تھا۔ ہماری فوجیں لڑتے لڑتے باداجوز تک پسپا ہونے پر مجبور ہو گئیں، اس دوران یوسف کا لشکر ابتدائی ہلے کے بعد زیادہ تر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتا رہا تھا۔ جب یوسف نے دیکھا کہ الفانسو غلبہ پانے کو ہے تو اس نے اپنی فوج کو ایک حکم دیا، جس کے بعد میں نے ایک نرالی بات دیکھی۔ بربر فوجیوں نے یکایک ایک عجیب و غریب بے ہنگم قسم کا صحرائی ڈھول بجانا شروع کر دیا۔

یوسف کی فوج کی ترتیب اور نظم و نسق ایسا تھا جو میں نے پہلے کبھی دیکھا نہ سنا تھا۔ فوج میں قسم قسم کے دستے تھے۔ ہر دستے کی تربیت اس طرح کی گئی تھی کہ وہ اپنے اپنے امیر کے اشارے پر ایک اکائی کی طرح حرکت کرتا تھا۔ ہر دستے کا اپنا پرچم اور اپنا ڈھول بردار تھا اور دستے کی ہر حرکت ڈھول کی تھاپ پر ہوتی تھی۔ یہ دستے اس قدر سرعت اور اتنی ترتیب اور ربط و ضبط سے مڑتے، بڑھتے اور جھکائی دیتے تھے کہ ایسا گمان ہوتا تھا جیسے یہ دستے بیسیوں سپاہیوں پر مشتمل نہیں بلکہ ایک جسم ہیں۔ یہ دستے ہندوستانی فولاد سے بنی تلواروں اور چمڑے کی ڈھالوں سے لیس تھے۔ اس کے علاوہ یوسف کی فوج میں ترک تیراندازوں کے دستے بھی تھے۔ پہلے ایک قطار تیر چھوڑتی، اور فوراً زمین پر بیٹھ جاتی، اس کے بعد دوسری قطار تیروں کی بوچھاڑ کرتی، پھر تیسری۔ اتنی دیر میں پہلی قطار اپنے تیر دوبارہ کمانیں تیار کر لیتی۔ اس طرح مسلسل تیروں کی موسلادھار برسات جاری تھی۔


The Battle of Zallaqaمعرکہٴ زلاقہ کا ایک منظر، جس میں یوسف بن تاشفین نے الفانسو ششم کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا

 

 

یہ رنگ ڈھنگ سرزمینِ ہسپانیہ کے لیے نرالے تھے، یہاں کے فوجیوں کو اس قسم کی جنگ لڑنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ شام کا اندھیرا پھیلنے سے پہلے پہلے میدانِ جنگ الفانسو کے سپاہیوں کی لاشوں سے اٹ گیا۔ الفانسو بڑی مشکل سے بچے کھچے سپاہیوں کے ساتھ جان بچا کر قسطیلہ بھاگ گیا۔

23 اکتوبر 1086ء کو ہونے والے اس معرکے کو جنگِ الزلاقہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ الزلاقہ عربی میں پھسلواں زمین کو کہتے ہیں۔ اس نام کی وجہ یہ تھی کہ اس دن اس قدر خون بہا تھا کہ زمین پر قدم جما کر چلنا محال ہو گیا تھا۔ میں خود اس جنگ میں خاصا زخمی ہو گیا تھا، اور مجھے تین گہرے زخم آئے تھے، تاہم میرے قابل جراحوں کی لیاقت اور رحمتِ خداوندی سے زخم جلد بھر گئے۔

جنگ الزلاقہ میں اگرچہ الفانسو کو شدید زک اٹھانا پڑی تھی، لیکن اس کی کمر پوری طرح سے نہیں ٹوٹی تھی، کیوں کہ یوسف نے اس کا پیچھا کرنے کی بجائے فوراً افریقہ واپسی کا طبل بجا دیا۔ وجہ یہ معلوم ہوئی کہ اس کا جوان اور چہیتا بیٹا مراقش میں مر گیا تھا۔ تاہم کچھ عرصے کے لیے مسلم ریاستوں کی جان الفانسو کی چیرہ دستیوں سے چھوٹ گئی۔

لیکن ابھی تین چار ہی سال گزرے تھے کہ الفانسو نے دوبارہ پر پرزے نکالنے شروع کر دیے۔ مسلم ریاستوں سے خراج کے تقاضے بڑھتے چلے گئے اور جلد ہی وہی صورتِ حال لوٹ آئی جو یوسف بن تاشفین کے حملے سے پہلے تھی۔ اس صورتِ حال کو ایک ولندیزی تاریخ دان نے یوں بیان کیا ہے کہ الفانسو مسلمان راجواڑوں کو شراب کی بھٹی میں اس وقت تک کچلتا رہتا تھا جب تک ان سے خالص سونے کا رس برآمد نہ ہو جائے۔

حالات یہاں تک پہنچے کہ ایک بار پھر امیرانِ طائفہ جات اور اندلس کے مذہبی رہنما یوسف بن تاشفین کے پاس جا کر المدد کی صدا بلند کرنے پر مجبور ہو گئے۔ کچھ عرصے تک تو یوسف لیت و لعل سے کام لیتا رہا۔ آخر اس نے فیصلہ کر لیا۔ میرے رقعہ نویسوں نے مجھے اطلاع دی کہ اس بار یوسف واپس جانے کے لیے نہیں بلکہ اندلس کے تمام طائفوں کو مرابطون سلطنت میں ضم کرنے کی نیت سے آ رہا ہے اور اس بارے میں اس نے امام غزالی اور الطرطوشی سمیت مسلم دنیا کے بڑے علما سے فتاویٰ بھی حاصل کر رکھے ہیں۔ ان تمام علما نے یہی لکھا تھا کہ اندلس کے حکمران اس قدر عیاش اور گمراہ ہو گئے ہیں کہ انھیں بزورِ شمشیر تخت سے ہٹانا جائز ہے، اور اگر اس سلسلے میں مسلمان خون بھی بہتا ہے تو چنداں مضائقہ نہیں۔

یوسف نے ستمبر 1090ء میں سرزمینِ اندلس پر اترتے ہی پہلے ہلے میں مالقہ اور غرناطہ کی ریاستوں اپنی سلطنت میں شامل کر لیا اور ان کے امیروں کو گرفتار کر کے مراقش بھجوا دیا۔ اگلے سال قرطبہ کی باری آئی، جس کے بعد اس کی فوجوں نے میری سلطنت اشبیلیہ پر دھاوا بولنے کی تیاری شروع کر دی۔ میں اپنی بربادی کا نظارہ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا تھا، اس لیے بے حد مجبوری کے عالم میں مجھے الفانسو کے سامنے دستِ سوال پھیلانا پڑا۔ الفانسو نے یوسف کے لشکر کو اشبیلیہ کی طرف بڑھتا دیکھ کر غرناطہ پر حملہ کرنے کے لیے پیش قدمی شروع کر دی، لیکن یوسف کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور اس نے 1091ء میں یلغار کر کے اشیبیلہ پر قبضہ کر لیا۔ اپنی داستان کے شروع میں میں نے اسی جنگ کا احوال بیان کیا تھا (ملاحظہ کیجیئے، اشبیلیہ کا البیلا بادشاہ)۔

جب میرے آنسو تھم گئے
اور دل پر خاموشی کے گہرے بادل چھا گئے
میں نے آوازیں سنیں:
’ہتھیار ڈال دو، اسی میں دانائی ہے!‘
میں نے جواب دیا:
’شرمندگی کے اس پیالے سے
زہر کا گھونٹ بہتر ہے۔‘
اگرچہ بربروں نے میرا تخت مجھ سے چھین لیا ہے
اور میرے سپاہیوں نے مجھے ترک کر دیا ہے
میری ہمت اور میرا وقار میرے ساتھ ہیں
جنگ کے لیے میں زرہ بکتر کے بغیر گیا
لیکن افسوس، میرا وقت ابھی نہیں آیا

قصہ مختصر کہ میں نے اپنے چار نوجوان بیٹوں، الفتح، یزید، مالک اور عبدالجبار کی لاشیں اپنے سامنے گرتی دیکھیں۔ مجھے زنجیروں میں جکڑ کر یوسف بن تاشفین کے سامنے پیش کیا گیا، جس نے میرے ساتھ بڑی حقارت کا سلوک کرتے ہوئے مجھے اور میرے خانوادے کو جلاوطن کر کے مراقش بھجوا دیا۔ میری وفادار رعایا نے مجھے رخصت کیا۔ جب ہم سیاہ رنگ کشتیوں میں سوار ہو کر اپنی عزیز از جاں مادرِ وطن کو آخری بار دیکھ رہے تھے تو بربروں کے خوف کے باوجود دریائے وادی الکبیر کے کنارے مجھے الوداع کہنے کے لیے آئی ہوئی میری وفادار رعایا کے آنسو بہہ کر دریا کے مٹیالے پانی میں مل رہے تھے۔

جب ہم مراکش کے شہر طنجہ میں اترے تو میرے آنے کی خبر وہاں جنگ کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی۔ شہر بھر کے شعرا اور ادبا مجھ سے ملنے کے لیے فصیلِ شہر تک آئے ہوئے تھے۔ شاعر حسری نے آگے بڑھ کر مجھے عربی شاعری کا ایک انتخاب پیش کیا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ بھاری انعام اور خلعت پاتا۔ لیکن وہ اس کس مپرسی کے عالم میں مجھ سے ملا تھا۔ میں نے اپنے لباس کی جیبیں ٹٹول کر آخری اشرفیاں نکالیں، اور ان کے حوالے کردیں۔ اشرفیاں میرے ہی خون سے رنگی ہوئی تھیں۔

جب میں نے لوگوں کا ایک ہجوم دیکھا
جو بارش کے لیے دعا مانگنے اکٹھا ہوا تھا
میں نے کہا، میرے آنسو ہی جل تھل کرنے کے کافی ہیں
سچ ہے، انھوں نے جواب دیا
لیکن تمھارے آنسو خون سے رنگے ہوئے ہیں

کیسی بلندی، کیسی پستی۔ میں نے نیک نامی، آرام و آسائش اور عزت و شہرت کی معراج دیکھی تھی، اب میں زنجیروں میں جکڑا ہوا برہنہ سر، پاپیادہ، بربر سپاہیوں کے دھکے کھاتا اور گالیاں سنتا کوہِ اطلس کے دامن میں واقع اغمات کے قلعے کی طرف چلا جا رہا تھا۔

مجھے ملکہ اعتماد اور میری بیٹیوں سمیت کوہِ اطلس کے قلعہٴ اغمات میں قید کر دیا گیا۔ میرے اوپر تو جو گزری سو گزری، میرے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات میری ناز و نغم سے پلی ہوئی شہزادیوں کو پیٹ پالنے کے اون بنتے ہوئے دیکھنا تھا۔ قید خانے میں پہلی عید کے موقعے پر میں نے یہ نظم کہی تھی:

گزرے دنوں میں تہوار تمہارے لیے خوشی کی نوید لاتے تھے
لیکن اس پرمسرت دن نے تمہیں اغمات میں پا بہ جولاں پایا ہے
تم اپنی پھول سی بیٹیوں کو چیتھڑوں میں ملبوس
اور بھوک سے سوکھ سوکھ کر کانٹا بنتے دیکھ رہے ہو
جو غربت کے ہاتھوں روئی دھنکنے پر مجبور ہیں
وہ نظریں نیچی کر کے تم سے عید ملنے آئی ہیں
وہ پاؤں جو کبھی مشک اور کافور پر چلا کرتے تھے
اب اغمات کی گلیوں کی کیچڑ میں چلتے ہیں
ان کے پچکے ہوئے گالوں پر آنسوؤں نے راستے بنا دیے ہیں
خداوندا، ایسی عید دوبارہ نہ لانا
اپنی عظمت کے نشے میں چور بادشاہ
احمقوں کی جنت کے مقیم ہوتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1093ء میں معتمد اور اعتماد کے آخری بچ جانے والے بیٹے ابن جبار نے یوسف بن تاشفین کے خلاف بغاوت کر دی، کچھ دنوں کے لیے معتمد کے دل میں امید کی کرن نے بسیرا کیا، لیکن پھر قلعے کی سنگلاخ برجیوں کے پار سے خبر پہنچی کہ ابنِ جبار بھی بربر فوج کی سیسہ پلائی دیوار سے سر ٹکرا کر رہ گیا اور اسے بھی تہِ تیغ کر دیا گیا۔ اعتماد اپنے پانچویں بیٹے کی موت کا صدمہ برداشت نہ کر سکی اور چند مہینوں کے اندر اندر گھل گھل کر مر گئی۔ اپنی محبوب ملکہ کے مرنے کے کچھ ہی عرصے بعد المعتمد نے بھی دنیا کو خیرباد کہہ دیا۔

Graves of Itimad and Mutamidمراقش کے قصبے اغمات میں معتمد، ملکہ اعتماد اور ان کی بیٹی کی قبریں


المعتمد کے دربار کی شان و شوکت اور اس کی ذاتی دریادلی اور شجاعت کی وجہ سے اسے اندلس کی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہی نہیں بلکہ المعتمد کا شمار عربی کے اہم شعرا میں بھی ہوتا ہے۔ تاریخ دان ابن خلکان معتمد کے بارے میں لکھتا ہے کہ وہ سپین کے تمام حکمرانوں سے زیادہ کشادہ دل، ہمدرد، سخی اور طاقت ور تھا۔ اس کا دربار مسافروں کی پناہ گاہ اور شاعروں کی مشاعرہ گاہ ان تمام باصلاحیت لوگوں کی امیدوں کا مرکزتھا۔

 علامہ اقبال نے اس کی ایک نظم کا اردو ترجمہ کیا ہے جو ’بالِ جبریل‘ میں شامل ہے:

قید خانے میں معتمدکی فریاد
معتمد اشبیلیہ کا بادشاہ اور عربی شاعر تھا- ہسپانیہ کے ایک حکمران نے اس کو شکست دے کر قید میں ڈال دیا تھا - معتمد کی نظمیں انگریزی میں ترجمہ ہوکر وزڈم آف دی ایسٹ سیریز میں شائع ہو چکی ہیں
 
اک فغان بے شرر سینے میں باقی رہ گئی
سوز بھی رخصت ہوا، جاتی رہی تاثیر بھی
مرد حر زنداں میں ہے بے نیزہ و شمشیر آج
میں پشیماں ہوں، پشیماں ہے مری تدبیر بھی
خود بخود زنجیر کی جانب کھنچا جاتا ہے دل
تھی اسی فولاد سے شاید مری شمشیر بھی
جو مری تیغ دو دم تھی، اب مری زنجیر ہے
شوخ و بے پروا ہے کتنا خالق تقدیر بھی!

 آپ نے ملاحظہ کیا ہو گا کہ نظم کے شروع میں دیے گئے نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ معتمد کو ہسپانیہ کے ایک حکمران نے اس کو شکست دے کر قید میں ڈال دیا تھا، حالاں کہ ظاہر ہے کہ یوسف بن تاشفین ہسپانیہ کا بادشاہ نہیں تھا۔

خیر، یوسف بن تاشفین نے تمام مسلم اندلس کو اپنی مرابطون سلطنت کے جھنڈے تلے اکٹھا کر لیا، جس سے عیسائیوں کے استرداد (Reconquista) کے آگے بند باندھ دیا۔ یوسف کے بارے تاریخ کہ کتابوں میں لکھا ہے کہ

 

Yusuf bin Tashfinیوسف بن تاشفین۔ نسیم حجازی نے یوسف بن تاشفین پر ایک تاریخی ناول لکھ رکھا ہے



یوسف بن تاشفین اندلس میں اسلام کا نجات دہندہ بن کر آیا تھا۔ اس کی عمر اس وقت 70 سال تھی۔ وہ لمبا تڑنگا اور مثالی صحت کا مالک تھا۔ اس کی بھویں آپس میں ملتی تھیں، اور اس کی آواز بلند آہنگ تھی۔ وہ صحرائے اعظم صحارا میں لمتونہ نامی بربر قبیلے میں پیدا ہوا تھا۔ اس کے قبیلے نے اس وقت اسلام قبول کیا جب یوسف ہوش سنبھال چکا تھا۔ یوسف کی خوراک جو کی روٹی، دودھ اور اونٹ کا گوشت تھا، اور وہ صرف اونی کپڑے پہنتا تھا۔ صحرائی قبیلوں کے رواج کے مطابق اس کا چہرہ ہمیشہ نقاب سے ڈھکا رہتا تھا۔

ابن تاشفین کے لمبی عمر پائی، تاہم 1106ء میں اس کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے سلطنت کو یوسف کی سی قابلیت سے نہیں چلا سکے الموحدین خاندان کی حکومت کو اندلس میں کبھی بھی پسند نہیں کیا گیا، کیوں کہ یہ صحرائی بربر تھے اور اندلس کے صدیوں پرانے پرشکوہ تمدن کے مخمل میں ان کا وجود ٹاٹ کے پیوند کی طرح تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شمالی افریقہ کے بڑے حصے اور اندلس پر پھیلی ہوئی المرابطون ۔ حتیٰ کہ 1147ء میں اس کا خاتمہ ہو گیا۔

اسی دوران مراقش ہی سے ایک اور بربر قبیلہ اٹھا جسے تاریخ الموحدون کے نام سے جانتی ہے۔ الموحدون طالبان کی طرح انتہائی سخت گیر اور انتہاپسند تھے۔ الموحدون نے یوسف بن تاشفین کے جانشینوں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر دیکھتے ہی دیکھتے پہلے مراقش اور بالآخر اندلس پر بھی اپنا جھنڈا لہرانے میں کامیاب ہو گئے۔ 1170ء میں الموحدون اپنا دارالحکومت بھی اشبیلیہ منتقل کر دیا۔ اشبیلیہ کی عظیم مسجد انھی کی بنائی ہوئی ہے۔ آج جس کی یادگار ہیرالدا کے مینار کی صورت میں باقی ہے (ملاحظہ کیجیئے تیرھویں قسط: ’اندلس کا شہرِ رومان، اشبیلیہ‘)۔

 

Map of the empire of Yusuf bin Tashfin


تاہم الموحدون زیادہ عرصے تک شمالی ہسپانیہ کی عیسائی ریاستوں کو دور رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ایک ایک کر کے شہر مٹھی سے ریت کی طرح پھسلتے چلے گئے۔ 1236ء میں قرطبہ اور 1248ء میں اشبیلیہ پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس وقت سے لے کر 1492ء تک صرف غرناطہ کی ریاست ایسی تھی جہاں مسلمانوں کی حکومت برقرار تھی۔

غرناطہ، الحمرا محل کا شہر۔ جو میری اگلی منزل تھا۔
 

 

رائے اور تبصرہ (5)

04-11-2009 mohammad tahseen khan changwnai baloch (paksitan,,,,,,,,,,,living in ksa)

اللہ کا نام مان کر لکھنے میں اتنی دیر بھی نہ کیا کریں۔ کیا گھر میں بیٹھ کر لکھتے ہیں مستنصر حسین تارڑ کی طرح؟ اتنی دیر بعد آپ کی قسط آئی ہے۔ اتنا انتظار تو کوئی ظالم محبوب بھی نہیں کرواتا۔ شکریہ۔

05-11-2009 شاہد احمد خان (پاکستان)

سچی بات یہ ہے کہ میرے پاس تعریف کیلئے الفاظ نہیں ہیں۔۔۔۔اتنا دلچسپ اور معلوماتی سلسلہ شروع کرنے ، جاری رکھنے اور آگے بڑھانے پر مبارک باد۔۔۔۔۔۔۔

05-11-2009 Tahir (Pakistan)

یہ بہت اچھا سلسلہ ہے۔ اسے روکیے گا مت۔ برائے مہربانی اگلی قسط یہیں سے شروع کیجیے گا۔

06-11-2009 Anjum Khan (Pakistan)

یہ ہماری نوجوان نسل کے لیے بہت اچھی تاریخ ہے۔ اسے جاری رکھیے۔

11-11-2009 Fayaka Janua (Pakistan)

یہ سلسلہ اتنا اچھا ہے کہ ہم اسے اپنے ادبی پرچے میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا پرچہ ادبِ معلی کے نام سے لاہور سے شائع ہوتا ہے۔

اپنی رائے ارسال کیجئے

* لازمی



آپ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آپ کے تبصرے کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور ممکن ہے اسے شائع نہ کیا جائے۔ وی او اے آپ کے تبصرے کو دنیا بھر میں نشر کرنے کا حق رکھتا ہے۔ استعمال اور پرائیویسی نوٹس