دیامیر کے علاقے میں چٹانوں پر بنائی گئی ہزاروں سال پرانی تصاویر جو بدھ مذہب سے تعلق رکھتی ہیں
یادگارعمارتوں کے تحفظ کے عالمی ادارے نے 47 ملکوں میں واقع 93 ثقافتی یادگاروں کی ایک فہرست جاری کی ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ دیکھ بھال نہ ہونے، نقصان پہچائے جانے یا قدرتی آفات کے باعث انہیں خطرے کا سامنا ہے۔
اس فہرست میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں واقع دیامیر باشا ڈیم کے علاقے میں چٹانوں پر کھدی ہوئی قدیم تصویریں اور شکار پور کے تاریخی شہر کا مرکز شامل ہیں۔
نیویارک میں قائم غیر منافع بخش تنظیم ورلڈ مانومنٹس فنڈ کی جانب سے جاری ہونے والی فہرست میں پرو کا قدیم شہر ماچو پیچو، بھوٹان کی فاجوڈنگ خانقاہ، ازبکستان کے قدیم خوارزم صحرائی محلات، جاپان کے شہر کیوٹو کے روایتی مکانات ، پورٹ آف پرنس ہیٹی کے گنگربریڈ ہاؤسز اور امریکہ کی مشرقی ریاست کنیٹی کٹ میں واقع ایک خوبصورت قدرتی مناظر کی شاہراہ میرٹ پارک وےشامل ہیں۔
پریس ریلز کے مطابق ادارے کا کہناہے کہ اس نے شہری اور دور افتادہ مقامات پرموجود قدیم اور نسبتاً جدید دونوں طرح کی یادگاروں کو اپنی فہرست میں شامل کیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے صدر بونی برن ہیم نے معاشرے کے تمام طبقوں سے ان مقامات کے تحفظ اور قدیم ورثوں اور کمیونٹی کے خدشات کے درمیان ایک توازن پیدا کرنے میں مدد کی اپیل کی ہے۔
دیامیر باشا کی یہ تصویریں ہزاروں چٹانوں پر کندہ کی گئی ہیں۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں مشہور ’شاہراہِ ریشم‘ پر آنے والے تاجروں اور ان کے ساتھیوں نے بنایا تھا۔
ورلڈ مانومنٹس فنڈ 1996 میں قائم کیا جانے والا ایک غیر سرکاری ادارہ ہے۔ادارہ ہر دوسال کے بعد قدیم یادگاروں سے متعلق اپنی فہرست جاری کرتا ہے۔اس ادارے کی ویب سائٹ کا پتا یہ ہے۔ www.wmf.org