بالی ووڈ کے مشہور اداکار سلمان خاں ان دنوں بھوج پوری زبان سیکھ رہے ہیں اور اس کے لیے باقاعدہ انہوں نے ایک استاد رکھ لیا ہے، جس کے ساتھ وہ روزانہ گھنٹوں وقت گزارتے ہیں اور بھوج پوری زبان پڑھنے کے ساتھ ساتھ اسے بولنے کی بھی مشق کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی ارباز خاں کے پروڈکشن کی ایک فلم ’دبنگ‘ میں ہیرو کا کردار ادا کرنے جا رہے ہیں۔ در اصل یہ فلم اتر پردیش کے ایک گاؤں کی ہے اور اس علاقہ میں بھوج پوری زبان بولی جاتی ہے۔ اس لیے کردار کو حقیقی شکل میں ڈھالنے کےلیے انہوں نے بھوج پوری سیکھنے کا فیصلہ کیا۔
بھوج پوری زبان بہارکے علاوہ اتر پردیش، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش اور اڑیسہ میں دوسری زبانوں کے ساتھ سااتھ بولی جاتی ہے، لیکن بہار اور اتر پردیش کا خاصا بڑا علاقہ ایسا ہے جہاں صرف بھوج پوری زبان ہی بولی جاتی ہے۔
بھوج پوری زبان اب ہندوستان سے نکل کر ماریشس، سرینام، ساؤتھ افریقہ، گنی بساؤ جیسے ممالک میں بھی پھیلتی جا رہی ہے۔ بھوج پوری کے شائقین دنیا بھر میں اس کے بولنے والوں کی تعداد پندرہ کروڑ بتاتے ہیں۔ گذشتہ چند برسوں میں بھوج پوری کی فلمیں اور اس کے گانے بھی بہت مقبول ہوئے ہیں۔ اس سے متاثر ہو کر ہی ارباز خاں نے فلم ’دبنگ‘ بنانے کا ارادہ کیا ہے۔ لیکن ان کی فلم بھوج پوری زبان میں نہیں بلکہ ہندی زبان میں ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ جس گاؤں کے گرد اس کی کہانی گھومتی ہے وہ اتر پردیش کی ایسی بستی ہے جہاں بھوج پوری زبان بولی جاتی ہے۔
’دبنگ‘ یعنی زورآور ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو اتر پردیش کے بھوج پوری علاقہ کا کسان ہے اور وہ اپنے علاقہ کا دبنگ یعنی زور آور بھی ہے۔ اس فلم میں کی عکس بندی نومبر میں شروع ہو گی۔
سلمان خان نے امید ظاہر کی ہے کہ دبنگ کی شوٹنگ تین مہینوں میں مکمل ہو جائے گی، حالاں کہ ابھی یہ طے نہیں کیا گیا ہے کہ اس کی فلم بندی کس علاقہ میں کی جائے گی۔