آکے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے ۔۔۔ جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرے
یہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے ۔۔۔ تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
شکیب جلالی شاعر تھے۔ لیکن ان کے اندر آگ کی تپش بھری ہوئی تھی۔ اسی لیے انہوں نے وہ سب کچھ جلدی جلدی کہہ دیا جو انہیں کہنا تھا کیونکہ بہر حال انہیں ان شعلوں کی نذر ہو جانا تھا۔
سید حسن رضوی کی پیدائش یکم اکتوبر 1934ء کو اتر پردیش کے علی گڑھ کے ایک قصبے سیدانہ جلال میں ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے شعور کی آنکھیں بدایوں میں کھولیں جہاں ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں تعینات تھے۔ لیکن والدہ کی حادثاتی موت نے سید حسن رضوی کے ذہن پر کچھ ایسا اثر ڈالا کہ وہ شکیب جلالی بن گئے۔ انہوں نے 15،16سال کی عمر میں شاعر ی شروع کر دی اور شاعری بھی ایسی جو لو دیتی تھی جس میں آتش کدے کی تپش تھی۔ ان کے بچپن کے دوست اور معروف شاعر عرفان صدیقی نے ان کی موت پر جو مضمون لکھا تھا اس میں وہ اس بات کا ذکر کرتے ہیں:
”میرے لیے شکیب کی ذات کو اس پس منظر سے الگ کر کے دیکھنا اور سمجھنا مشکل ہے۔ ہمارے گھر کا مردانہ حصہ ان نوجوانوں کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ مباحثے ہو تے تھے، ادبی مقابلے اور شعری محفلیں برپا کی جاتی تھیں، ادبی رسالے نکالے اور بند کیے جاتے تھے۔ انجمنیں اور جوابی انجمنیں قائم کی جاتی تھیں ۔۔۔ اور اس کی چھاؤں میں نیا ذہن اور شعور پنپ رہا تھا۔ شکیب تب تک شکیب جلالی نہ بنا تھا لیکن شعر کہتا تھا، شعر سناتا تھا، مباحثوں میں حصہ لیتا تھا اور بڑے بھائی نیاز کے ساتھ کالج کی تعلیم اور ثقافتی سرگرمیوں میں آگے آگے رہتا تھا ۔۔۔ پھر یوں ہوا کہ محفل تتر بتر ہو گئی ہوائیں تو سمت غیب سے پہلے ہی چل رہی تھیں کچھ جھونکوں نے بہت سے دوستوں کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ “
شکیب جلالی پہلے راولپنڈی اور پھر لاہور چلے گئے وہاں سے انہوں نے ایک رسالہ ” جاوید “ نکالا۔ لیکن چند شماروں کے بعد ہی یہ رسالہ بند ہو گیا۔ پھر ”مغربی پاکستان“ نام کے سرکاری رسالے سے وابستہ ہوئے۔ مغربی پاکستان چھوڑ کر کسی اور اخبار سے وابستہ ہو گئے۔ تعلقاتِ عامہ کے محکمے میں بھی انہیں ایک ذمہ دارانہ ملازمت مل گئی۔ لیکن وہ ان سب چیزوں سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کی شاعری ویسے ہی شعلہ فشانی کرتی رہی اور پھر احساسات کی اس تپش کے آگے انہوں نے سپر ڈال دی اور محض 32 سال کی عمر میں سرگودھا اسٹیشن کے پاس ایک ریل کے سامنے کود کر خودکشی کر لی اور اس طرح شعلوں سے لہلہاتے ہوئے ایک شاعر کا خاتمہ ہو گیا۔
شکیب جلالی نے جو غزلیں کہیں ان میں احساسات کی تپش بہت شدید ہے۔ انکی کچھ غزلیں تو اس طرح مقبول ہوئیں کہ ہم عصر شعرا نے اس پر غزلے اور دو غزلے کہہ دیے اور یہ طرحیں آج تک بہت مقبول ہیں۔
جہاں تلک بھی کہ یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے
نہ اتنی تیز چلے سر پھری ہوا سے کہو
شجرپہ ایک ہی پتا دکھائی دیتا ہے
یہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے
تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
مری نگاہ سے چھپ کر کہیں رہے گا کوئی
کہ اب تو سنگ بھی شیشہ دکھائی دیتا ہے
سمٹ کے رہ گئے آخر پہاڑ سے قد بھی
زمیں سے ہر کوئی اونچا دکھائی دیتا ہے
یہ کس مقام پہ لائی ہے جستجو میری
جہاں سے عرش بھی نیچا دکھائی دیتا ہے
کھلی ہے دل میں کسی کے بدن کی دھوپ شکیب
ہر ایک پھول سنہرا دکھائی دیتا ہے
شکیب جلالی کی غزلیں ہندو پاک کے ادبی رسائل میں شائع ہو تی رہتی تھیں لیکن ان کا شعری مجموعہ”روشنی اے روشنی“ احمد ندیم قاسمی نے ان کی موت کے بعد مکتبہ فنون کے ذریعہ سنہ 1967ء میں شائع کیا تھا۔ چار برس قبل شکیب جلالی کی کلیات شائع ہوئی ہے جس میں ان کا مطبوعہ اورغیر مطبوعہ کلام اکٹھا کر دیا گیا ہے۔
’روشنی اے روشنی‘ کو بھارت میں مشہور شاعر والی آسی نے اپنے ادارہ دین و ادب سے عرفان صدیقی کے پیش لفظ” آگ کے دریاؤں کا مسافر“ کے ساتھ شائع کیا۔ اس پیش لفظ کے آغاز میں ہی عرفان صدیقی نے جو کچھ لکھا ہے وہ دل کو تڑپانے والا ہے۔
” اس اخبار کے اندرونی صفحوں میں بالکل غیر اہم انداز کی وہ مختصر سی خبر دیکھی تو کانوں میں اچانک بہت سی بھولی ہوئی آواز یں گڈ مڈ ہو کر گونجنے لگیں اور ذہن میں بیتے دنوں کی دھندلی دھندلی تصویریں خلط ملط سی ہونے لگیں جیسے کرچ کرچ آئینوں میں چہرے، نئی اردو غزل کے منفرد شاعر شکیب جلالی نے ریل سے کٹ کر خودکشی کر لی:
سایہ تو جل کے ہوا خاک تجھے کیا معلوم
تو کبھی آگ کے دریاؤں میں اترا ہی نہیں
شکیب کی غزلوں میں آتش کدوں کے وہ شعلے رقص کرتے ہوئے محسوس ہو تے ہیں:
آکے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے
جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرے
مجھ کو گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں
جس طرح سائہ دیوار پہ دیوار گرے
دیکھ کر اپنے در وبام لرز اٹھتا ہوں
میرے ہم سائے میں جب بھی کوئی دیوار گرے
خموشی بول اٹھے اور ہر نظر پیغام ہو جائے
یہ سناٹا اگر حد سے بڑھے پیغام ہو جائے
ستارے مشعلیں لے کر مجھے بھی ڈھونڈھنے نکلے
میں رستہ بھول جاؤں جنگلوں میں شام ہو جائے
میں وہ آدم گزیدہ ہوں جو تنہائی کے صحرا میں
خود اپنی چاپ سن کر لرزہ بر اندام ہو جائے
گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا
ہر ا بھرا بدن اپنا درخت جیسا تھا
ستارے سسکیاں بھرتے تھے اوس روتی تھی
فسانہٴ جگرِ لخت لخت ایسا تھا
کب سے ہیں ایک حرف پہ نظریں جمی ہوئی
میں پڑھ رہا ہوں جو نہیں لکھا کتاب میں
اک یاد ہے کہ چھین رہی ہے لبوں سے جام
اک عکس ہے کہ کانپ رہا ہے شراب میں
جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے
زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے
دنیا کو کچھ خبر نہیں کیا حادثہ ہوا
پھینکا تھا اس نے سنگ گلوں میں لپیٹ کے
خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جھک کے کھڑکی میں
کبھی چراغ بھی جلتا ہے اس حویلی میں
یہ آدمی ہیں کہ سائے ہیں آدمیت کے
گزر ہوا ہے مرا کس اجاڑ بستی میں
سوچو توسلوٹوں سے بھری ہے تمام روح
دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں
اتر کے ناؤ سے بھی کب سفر تمام ہوا
زمیں پہ پاؤں دھرا تو زمیں چلنے لگی
اتر گیا ترے دل میں توشعر کہلایا
میں اپنی گونج تھا اور گنبدوں میں رہتا تھا
میں ساحلوں میں اتر کر شکیب کیا لیتا
ازل سے نام مرا پانیوں پہ لکھا تھا
شکیب جلالی کو اپنی انفرادیت کااحساس تھا۔ اسی لیے وہ فخر سے کہتے ہیں:
شکیب اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہوجائے
وہ آگ کے دریا ؤں کے مسافر تھے اس لیے ان دریاؤں کا سفر کرتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ گئے وہ منزل درد ناک تھی یا کرب ناک۔ یہی بات عرفان صدیقی بھی کہتے ہیں:
” اس کی غزلیں بتا رہی تھیں کہ اس کا شعور اور اس کا احساس جس سفر پر نکلے ہیں وہ آگ کے دریاؤں سے نکلتا ہے پھر اچانک ایک دن وہ اپنے جسم کی ٹوٹی پھوٹی فصیل پر تازہ لہو کے چھینٹے چھوڑ کر حدود وقت سے آگے جانے کہاں نکل گیا۔ اس نے کہا بھی تو تھا:
فصیلِ جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں
حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی
شکیب کی بے وقت موت نے اردو شاعری کے تن پر جو گھاؤ لگایا ہے اس کی کسک آج بھی باقی ہے:
آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر