ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • اتوار, 22 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

خبریں RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

’پشاور کو صفحہٴ ہستی سےمٹا دیں گے‘ سرد جنگ کا فراموش شدہ باب

شیئر کیجیئے

سرد جنگ کا سب سے بڑا ڈراما یکم مئی 1960ء کو ہوا جب ہواباز فرانسس گیری پاورز پشاور کے قریب بڈابیر کے امریکن ایربیس سے اپنا جاسوسی طیارہ یو ٹو لے کر اُڑا اور سویت یونین کے اوپر اُسے مارگرایا گیا۔

 

اُس روز سویت وزیرِ اعظم نکیتا خروشیف نے کہا تھا کہ ہم نے نقشے پر پشاور کے گرد دائرہ کھینچ دیا ہے اور اگر پھر کوئی جاسوس طیارہ پاکستان کی سرزمین سے ہمارے ہاں آیا تو اس شہر کو صفحہٴ ہستی سے ہٹا دیا جائے گا۔

 

بڈا بیر کا ہوائی اڈہ اب پاکستانی فضائیہ کے استعمال میں ہے اور خروشیف کے فرزند سرگے ایک امریکی شہری اور کالج پروفیسر ہیں اور پاورز جونئیر کے دوست سمجھے جاتے ہیں۔

 

کوریا کی جنگ کے آزمودہ کیپٹن پاورز یو2 کے واقعہ میں بچ رہے تھے مگر وطن واپس آکر صرف 47 سال کی عمر میں ہیلی کاپٹر کے ایک حادثے میں مارے گئے۔

 

پاورز جونیئر کہتے ہیں کہ اگر ایسی کوئی تدبیر ہو کہ ہم پاکستان کی سرد جنگ کی تاریخ کی نمائش اور اُسے محفوظ کر سکیں تو ہم  پاکستان میں متعلقہ لوگوں سے بڑی چاہت کے ساتھ بات کریں گے۔

 

گیری پاورز جونیئر نے مزید بتایا کہ سرد جنگ کا مرکزی عجائب گھر لورٹن میں قائم کیا جارہا ہے۔ فیرفیکس کاؤنٹی کے ساتھ زمین کی لیز کے مذاکرات جاری ہیں۔ توقع ہے کہ چھ ماہ تک  بیع نامہ پر دستخط ہوجائیں گے اور اگلے 18مہینوں میں یہ عجائب گھر کھول دیا جائے گا۔

 

وہ یاد دلاتے ہیں کہ سرد جنگ عالم گیر جنگ تھی، اس کا اثر ایک یا دوسری حد تک ہر ایک ملک پر ہوا۔ سرد جنگ میں پاکستان کا حصہ بہت نادر ہے۔

 

اُن برسوں میں بھارت اور پاکستان میں کشیدگیاں سردجنگ میں اُن کے حصے کو بیان کرنےکا ایک طریقہ ہے۔

 

ہم دکھائیں گے کہ پاکستان کس طرح جنوب مشرقی ایشیا کی دفاعی تنظیم SEATOکا ایک حصہ تھا، ہم یہ بھی دکھائیں گے اور بتائیں گے کہ پاکستان جاسوسی کی پروازوں میں کس طرح ملوث تھا۔ ایسی ایک پرواز پر میرے والد یکم مئی 1960ء کو گئے تھےے۔

 

لہٰذا، سرد جنگ کے عجائب گھر میں پاکستان کی سرد جنگ کی تاریخ دکھانے کے کئی طریقے ہیں اور جو لوگ عجائب گھر دیکھنے آئیں گے وہ اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں گے۔

 

سرِ دست کولڈ وار میوزیم ایک سفری عجائب گھر ہے۔ گذشتہ دس سال کے دوران یو2 کے واقعے پر ایک سفری نمائش امریکہ کے اندر اور باہر مختلف عجائب گھروں کو دورہ کر چکی ہے۔ سرگے خروشیف  عجائب گھر کے کام میں فرانسس گیری پاورز جونیئر کی بھرپور امداد کر رہے ہیں۔

 

حال ہی میں وہ دونوں جگہ کی تلاش میں مِلواکی، وسکانسن گئے تھے۔

 

پاورز کہتے ہیں کہ سرد جنگ کے عجائب گھر امریکہ کے مختلف شہروں اور کئی دوسرے ملکوں میں بھی قائم کیے گئے ہیں یا کیے جارہے ہیں۔