پاکستان پیپلز پارٹی کے نئے سربراہ آصف زرداری نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کے لوگوں کو صرف ایک دن یعنی 18 فروری کو انصاف مل جائے اور منصفانہ انتخابات ہوجائیں تو ان کی پارٹی ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دے گی۔
سابق وزیرِ اعظم بےنظیر بھٹو کے چہلم کی رسومات کے بعد نئوں دیرو سندھ سے وائس آف امریکہ کے پروگرام آج شام میں براہ راست گفتگو کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ وہ موجودہ انتخابات میں احتجاجاً حصہ لے رہے ہیں اور انہیں معلوم ہے دھاندلی پہلے ہی ہو چکی ہے اور خدشہ ہے کہ مزید ہوگی۔
آصف زرداری کا کہنا تھا کہ وہ ایک دن کا انصاف چاہئیے تاکہ پاکستان کے عوام اپنی قسمت کا فیصلہ کر سکیں لیکن اگر عوام کو ایک دن بھی انصاف نہیں ملا تو اس کے نتائج کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر ہوگی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ بےنظیر بھٹو ایک عالمی سمجھوتے کے تحت پاکستان واپس آئی تھیں لیکن ان کے قتل کے ساتھ ہی وہ معاہدہ اب ٹوٹ گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شہادت کے بعد ان کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں تفتیش کی حمایت نہیں کی جارہی جو کہ افسوس ناک ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ہے وہ موجودہ حکومت نے کیا ہے، اور انھیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے جو انہیں نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کا معاملہ ایسا نہیں ہے جس کا فیصلہ صرف ان کی پارٹی کو کرنا ہے بلکہ اس کا فیصلہ پاکستانی عوام اور اس کی منتخب پارلیما ن نے کرنا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ ان کی پارٹی کا کوئی رکن مرکزی مجلسِ عاملہ کو بتائے بغیر مشرف حکومت سے رابطہ نہیں کرسکتا اور ان کی معلومات کے مطابق کسی نے محترمہ کی شہادت کے بعد حکومت سے رابطہ نہیں کیا۔
نئے فوجی سربراہ جنرل کیانی کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ فکری سطح پر ان کی باتیں خوش آئند ہیں لیکن یہ آگے چل کر دیکھنا ہوگا کہ وہ ان پر کس حد تک عمل کرواتے ہیں۔