ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • اتوار, 22 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

خبریں RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

رائے دہندگان انتہا پسندوں کو ووٹ نہیں دیتے: انسانی حقوق کا ادارہ

شیئر کیجیئے

انسانی حقوق کے ادارے ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ پیش کی ہے۔

’ہیومن رائٹس واچ‘ کا صدر دفتر نیویارک میں اور شاخیں دنیا کے تقریباً تمام ملکوں میں ہیں۔

واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کنیتھ رُوتھ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اُن کی تنظیم دہشت گردی سے لڑائی کی آڑ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھتی ہے جیسا کہ پاکستان، برطانیہ، فرانس اور یہاں امریکہ میں ہو رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دنیا میں جمہوریت کے فروغ کے معاملے میں مغرب کا دوغلہ پن واضح ہے۔

جب تیسری دنیا کے ممالک کی حکومتوں کی حمایت کی باری آتی ہے تو مغربی حکومتیں انسانی حقوق اور جمہوریت کے نفاذ کی پرکھ  میں من مانی سے کام لیتی ہیں جِس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سے آمروں کو اُن کی حمایت حاصل ہے۔

رُتھ نے یہ خیال رد کر دیا کہ انتخابات ہوں تو رائے دہندگان انتہا پسندوں کو اقتدار سونپ دیتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ’اگر آپ پاکستان پر نگاہ دوڑائیں تو وہاں اسلام پسندوں نے حقیقی مقابلے کے کسی قومی انتخاب میں 11 فی صد سے زیادہ ووٹ کبھی حاصل نہیں کیے اور فی الحقیقت یہ ملک کی در میانہ رو سیاسی جماعتوں پر صدر پرویز مشرف کا جبر و استداد اور اسلام پسندوں کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کی اُن کی متوازی ضروریات ہیں جو اسلام پسندوں کے لیے نعمت ثابت ہوئی ہیں اور اُنہوں نے شمال مغربی سرحدی صوبے اور بلوچستان کے علاقے حاصل کر لیے ہیں۔

مسٹر رُوتھ نے پاکستان میں ہنگامی حالت کے نفاذ پر صدر بش کے مؤقف پر کڑی نکتہ چینی کی۔

اُنہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے آئین کو معطل کیا، ججوں اور وکیلوں کو جیل میں ڈالا ، ذرائعِ ابلاغ کو بند کیا اور سیاسی لیڈروں کو پکڑ دھکڑ کا نشانہ بنایا مگر صدر بش کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے لائن پار نہیں کی اور وہ جمہوریت پسند ہیں۔

مسٹر رُوتھ نے کہا کہ اگر سیاسی مخالفوں کو جیلوں میں ڈالنے اور ذرائعِ ابلاغ کا منہ بند کرنے کا نام جمہوریت پسندی ہے تو پھر آمریت کِسے کہا جائے گا؟