پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینیٹ کے ایک اہم رکن جوزف لیبرمین نے آج بدھ کو اسلام آباد میں صدر پرویز مشرف، فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی، حزبِ اختلاف کے سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری عہدہ داروں سے ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں کے بعد سینیٹر لیبرمین نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام ملاقاتوں میں بات چیت کا مرکزی نکتہ عام انتخابات ہی تھا۔
سینیٹر لیبرمین نے کہا کہ صدر مشرف نے انہیں یقین دلایا ہے کہ انتخابات پروگرام کے مطابق 18 فروری کو ہوں گے۔ تاہم انہوں نے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے لیڈروں سے ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اکثر نے عام انتخابات کے حوالے سے گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ حکومت نے انتخابات میں دھاندلی کی مکمل تیاری کر لی ہے۔
مسٹر لیبر مین نے کہا کہ غیر منصفانہ انتخابات سے پاکستان میں محاذ آرائی میں اضافہ ہوگا۔ جس سے ملک کی یک جہتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عدم استحکام کی صورت میں القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے پاکستان کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوگا۔
امریکی سینیٹر نے متنبہ کیا کہ انتخابات کی ساکھ اگر مشکوک ہوئی تو عالمی برادری، خاص طور سے امریکی کانگریس میں اس کے خلاف شدید ردِّ عمل ہو سکتا ہے۔ جس کے نتیجے پاکستان کے خلاف سخت قراردادیں منظور کی جا سکتی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں سینیٹر لیبر مین نے کہا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق امریکی کانگریس میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ لیکن اسلام آباد میں قیام کے دوران اسٹرٹیجک پلاننگ ڈویژن کے سربراہ جنرل خالد قدوائی نے انہیں ان تمام اقدامات اور کئی تہوں پر مشتمل نظام سے آگاہ کیا، جو ان ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
سینیٹر لیبر مین نے کہا کہ وہ ان اقدامات سے مطمئن ہیں اور یہی پیغام لے کر وہ واپس امریکہ جا رہے ہیں۔