ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • اتوار, 22 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

خبریں RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

پاکستانی و بھارتی خواتین امریکہ میں دستکاری کا لوہا منواتے ہوئے

شیئر کیجیئے

کوئی دو درجن عورتیں جو کل تک اپنے گھروں میں گوشہ نشین تھیں اور اپنے آپ کو ازکار رفتہ خیال کرتی تھیں، مناسب ترغیب اور تربیت کے بعد علاقے کے بے گھر لوگوں کی امداد کر رہی ہیں اور اپنے کام پر فخر کرتی ہیں۔

 

اِن خواتین کا آبائی تعلق پاکستان، بھارت، افغانستان اور کچھ افریقی ملکوں سے ہے۔ وہ اپنے خاندانوں کے ہمراہ نقلِ وطن کرکے فیرفیکس کاؤنٹی میں آباد ہوئیں، چونکہ عمریں زیادہ اور تعلیم کم تھی اِس لیے روزگار سے دور رہیں اور اپنے آپ کو اپنے خاندانوں اور معاشرے پر بوجھ خیال کرنے لگیں۔

 

ہرینڈن سینئر سینٹر نے جِس پر فائیو سٹار ہوٹل کا گمان ہوتا ہے، اِن عورتوں کو تلاش کیا، اُنہیں کام کی ترغیب دی اور کشیدہ کاری میں تربیت مہیا کی۔

 

اگلے روز وہ سنٹر کے ایک ہال میں بڑے فخر سے اپنے کام کی نمائش کر رہی تھیں۔ اُنہوں نے اُون سے رنگا رنگ چوکور تختے بُنے تھے، جنہیں جوڑ کر وہ کمبل بنا رہی تھیں۔ یہ کمبل بے گھر لوگوں میں تقسیم کر دیے جائیں گے جو اُنہیں آنے والی سردیوں سے محفوظ رکھیں گے۔ سینٹر کی دائریکٹر  رُوتھ جِنکن کہتی ہیں ادارہٴ عالمِ نسواں کا منصوبہ اِس میں حصہ لینے والی خواتین اور اِس سے استفادہ کرنے والے لوگوں کے لیے شاندار ہے۔ یہ منصوبہ امریکہ کو گرم جوشی کی نوید سناتا ہے اور ہرنڈن سینئر سنٹر نے اِس شاندار پروگرام سے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے۔

 

سنٹر کی ایڈوائزر ڈاکٹر سُرجیت کور نے بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ نہیں ہے اِس سے پہلے مختلف ثقافتی پسِ منظروں کے شہریوں کو خدمات مہیا کرنے والے نجی مرکز نے صومالی عورتوں کو ایسا ایک پراجیکٹ دیا تھا۔ یہ پراجیکٹ عورتوں میں عزتِ نفس پیدا کرتا ہے اور وہ ملنے جُلنے سے خوشی رہتی ہیں۔

 

کچھ مقامی صحافیوں اور کاؤنٹی میں رہنے والے دوسرے بزرگوں نے بھی خواتین کی دست کاری دیکھی۔

 

اِن میں انڈین فارن سروس کے ریٹائرڈ رُکن ڈاکٹر سروپ سنگھ بھی تھے۔اُنہوں نے کہا خواتین کا کام دیکھ کر میں بہت متاثر ہوا ہوں۔ یہ اُن کی ذہنی صحت کے لیے بھی اچھا ہے۔

 

ہر کاؤنٹی کی حکومت نے بزرگ شہریوں کے لیے ایسے مراکز قائم کیے ہیں جہاں اُنہیں ورزش اور ذہنی مصروفیت کی سہولتیں قریباً مفت مہیا کی جاتی ہیں۔ روزانہ ہرینڈن سنٹر آنے والوں میں پاکستانی اور بھارت تارکینِ وطن بھی شامل ہیں۔