ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

خبریں RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

لال مسجد کے طالب علموں اور رینجرز کے درمیان تصادم: نو افراد ہلاک

شیئر کیجیئے

وفاقی دارالحکومت کی لال مسجد اور اِس سے ملحقہ جامعہ حفصہ کے طلبا و طالبات اور رینجرز  کے اہل کاروں کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور دونوں طرف سے خود کار ہتھیاروں سے ایک دوسرے پر فائرنگ کی جارہی ہے۔

 

 مقامی ہسپتالوں، پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق اِس لڑائی میں جو افراد اب تک ہلاک ہوئے ہیں اُن میں رینچرز کے دواہل کار، ایک مقامی اخبار کا کیمرہ مین اور جامعہ حفصہ کی طالبات شامل ہیں۔ اِس کے علاوہ درجنوں زخمی افراد کو ہسپتالوں میں داخل کرایا جا چکا ہے۔ اِس تصادم میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت جامعہ حفصہ کی طالبات کی ہے۔

 

تصادم کے دروان مشتعل طلبا نے لال مسجد کے ارد گرد سرکاری املاک کو بھی نذرِ آتش کر دیا ہے جِن میں قابلِ ذکر وزارتِ ماحولیات کی عمارت ہے۔ اِس کے علاوہ، ایک سرکاری اسکول کو بھی  آگ لگائی جا چکی ہے۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ لڑائی اُس وقت شروع ہوئی جب لال مسجد کے سینکڑوں طلبا نے ایک قریبی سرکاری عمارت میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی۔ جب انھیں وہاں پر تعینات پولیس اہل کاروں نے روکنا چاہا تو طلبا نے پولیس اہل کاروں سے ہتھیار چھین کر اُن پر فائرنگ شروع کر دی جِن کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہل کار موقعے پر ہی ہلاک ہوگیا۔

 

خیال رہے کہ لال مسجد اور اِس سے ملحقہ جامعہ حفصہ کی  طالبات نے گذشتہ کئی ماہ سے اسلام آباد سے ہی طالبان طرز کی انتہا پسند کارروائیاں شروع کر رکھی تھیں اور گذشتہ ماہ ایک رہائشی علاقے سے اُنہوں نے چھ چینی خواتین  کو یہ کہہ کر اغوا کر لیا تھا کہ وہ فحاشی کا اڈہ چلا رہی تھیں۔

تاہم بعد میں حکام  اور جامعہ حفصہ کے منتظمین کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں اُن چینی خواتین کو رہا کر دیا گیا تھا۔

 لیکن اِن تمام تر کارروائیوں کے باوجود حکومت نے اَب تک کوئی قدم نہیں اُٹھایا کیوں کہ بقول صدر مشرف لال مسجد میں خودکش خواتین  بم بار موجود ہیں اور کارروائی کی صورت میں خون خرابے کا اندیشہ ہے۔