ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • اتوار, 29 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

خبریں RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

فوج طالبان کے گڑھ لدھا میں داخل

شیئر کیجیئے

جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں سکیورٹی فورسز طالبان جنگجوؤں کے مضبوط گڑھ لدھا میں داخل ہو گئی ہیں جہاں حکام کے مطابق شدید جھڑپیں اور دست بدست لڑائی ہو رہی ہے۔  فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 30 شدت پسند مارے گئے ہیں جب کہ لڑائی میں دو افسروں سمیت آٹھ فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق طالبان جنگجوؤں کے زیر اثر اہم علاقے سراروغہ کا بیشتر حصہ بھی عسکریت پسندوں سے صاف کرا لیا گیا ہے۔  جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف 17 اکتوبر سے جاری بھرپور فوجی آپریشن میں اب تک فوج نے کانی گرام سمیت کئی اہم علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جن میں تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کا آبائی علاقہ کوٹکئی بھی شامل ہے۔

تازہ فوجی بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپریشن میں بڑی تعداد میں اسلحہ و بارود بھی فوج کے ہاتھ لگا ہے۔  راہ نجات نامی اس فوجی آپریشن میں ا ب تک فوج نے 300 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ ان کارروائیوں میں لگ بھگ 30 فوجی بھی مارے گئے ہیں۔  خیال رہے کہ آزاد ذرائع سے اس فوجی آپریشن میں مارے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کیوں کہ جن علاقوں میں اس وقت لڑائی ہو رہی ہے وہاں تک صحافیوں کو رسائی حاصل نہیں ہے اورآپریشن کے بارے میں معلومات کے حصول کا ایک بڑ ا ذریعہ فوج کی طرف سے فراہم کی جانے والے اعدادوشمار ہی ہیں۔

واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان میں موجود غیر ملکی عسکریت پسندوں سمیت لگ بھگ 10 ہزار جنگجوؤں کے خلاف تقریباً 30 ہزار فوجی اس آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں اور اُنھیں توپ خانے اور فضائیہ کی مدد بھی حاصل ہے۔ پاکستان حکام کا ماننا ہے کہ ملک میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں سے 80 فیصد کے تانے بانے جنوبی وزیرستان سے ملتے ہیں۔