پاکستانی اور امریکی حکام نے اُن اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ پاکستانی فوج کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے اتوار کو جاری کیے گئے ایک بیان میں امریکی میگزین”دی نیویارکر“ میں اس حوالے سے چھپنے والے مضمون کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک کےجوہری اثاثوں کی حفاظت کے بارے میں امریکی حکام اور پاکستان کے درمیان کبھی بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
امریکی رسالے کی خبر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستانی حکام کے درمیان بات چیت میں جوہری تنصیبات و ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے تربیت یافتہ امریکی اہلکاربھی مقامی فورسز کی مدد کے لیے تعینات کرنے پراتفاق کیا گیا ہے۔
لیکن پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی رسالے میں شائع ہونے والے مضمون کے مصنف کی پاکستان مخالف سوچ اور رویہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اس لیےاپنی رپورٹ میں انھوں نے جتنے بھی دعوے کیے ہیں ان کا مقصد صرف پاکستان کو بدنام کرنا اوراس کے عوام میں بدگمانیاں پیدا کرنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کے ملک کو اپنے جوہری اثاثوں کی حفاظت کے لیےغیر ملکی مدد کی ضرورت نہیں اور ایک خود مختار ریاست کی حیثیت سے پاکستان کسی بھی ملک کو جوہری تنصیبات تک براہ راست یا بالواسطہ رسائی نہیں دے گا۔
عبدالباسط نے اپنے ملک کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جوہری اثاثے مکمل طور پر محفوظ اور مقامی طور پر وضع کیے گئے کئی تہوں پر مشتمل مربوط نظام کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ نظام اُتنا ہی مضبوط اور موثر ہے جو جوہری ہتھیار رکھنے والے دوسرے ملکوں نے اپنے ہاں نافذ کر رکھے ہیں۔
اُدھراسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں سفیر این پیٹرسن نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج اور امریکہ کے مابین جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے مذاکرات کے الزامات بالکل بے بنیا د ہیں کیونکہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کو قبضے میں لینے کا امریکہ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
امریکی سفیرنے کہا کہ انتہا پسندی کے خلاف لڑائی اور علاقے میں استحکام لانے کے لیے پاکستان امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے اور اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تعاون جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ جوہری پروگرام اور مواد کی حفاظت کے لیے امریکہ کو پاکستان کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے اور اس کا اظہار امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں بھی کیا تھا۔