ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • پیر, 23 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

خبریں RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

دنیا کی پہلی دس منزلہ ماحول دوست عمارت

فرانس میں یہ عمارت توانائی کے لحاظ سے نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ اپنی ضرورت سے زیادہ توانائی پیدا کرتی ہے

شیئر کیجیئے


ایک فرانسیسی انجنیئرنگ کمپنی  نے ایک ایسی عمارت تعمیر کی ہے جسے  دنیا کی سب سے زیادہ ماحول دوست عمارت کہا جارہاہے۔  اس کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ توانائی کے لحاظ سے نہ صرف خودکفیل ہے بلکہ اپنی ضرورت سے زیادہ توانائی پیدا کرتی ہے۔  اس دس منزل عمارت کی تعمیر نے  دیر پا توانائی کے حصول کے لیے جاری کوششوں  کوایک ٹھوس بنیاد فراہم کردی ہے۔

ایلی تھس ٹاور ڈی فرانس کے شہر دی ژاں کے ایک  معروف  کاروباری علاقے میں بنایا گیا ہے۔  عمارت کے ایک حصے کو دھات کی ایک سرخ شیلڈ سے ڈھانپا گیا ہے  جو اصل میں سورج سے بچانے کی ایک ڈھال ہے۔  ایک معروف  اوپرا ہاؤس اور ہوٹل کے درمیان واقع یہ عمارت  اپنے گراؤنڈ فلور سے شمسی توانائی کے پینلوں  تک، کئی لحاظ سے ایک شاہکار  کا درجہ رکھتی ہے۔  یہ عمارت ایک ایسے ماحول میں رہنے اور کام کرنے کے تجربے کا موقع فراہم کرے گی جسے جدید اصطلاح میں سبزکہا جاتا ہے۔  اس سے مراد ہے حفظانِ ِ صحت کے عین مطابق۔

فرانکوئس پوچرون، جوعمارت کا نقشہ تیار کرنے والی  ایلی تھس انجنیئرنگ کمپنی کے ایک سینیئرمنیجر ہیں، کہتے ہیں کہ  عمارت کے ڈیزائن اور تعمیر میں، ہر لحاظ سے توانائی کے استعمال اور دیگر قدرتی عوامل مثلا سوج کی روشنی اور بارش کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
  
ایلی تھس کے ڈائریکٹر جنرل تھیری بیورے کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ عمارت سرے سے  توانائی استعمال  ہی نہیں کرتی۔  بیورے کہتے ہیں کہ  عمارت  میں زیادہ سے زیادہ روشنی داخل ہونے کےلیے دوہری تہہ دار بڑی کھڑکیاں لگائی گئی ہیں۔  چنانچہ روشن دان کے علاوہ ایسے میں بھی، جب آسمان پر بادل چھائے ہوئے ہوں،  وہاں کام کرنے والوں کو بجلی جلانے کی ضرورت پیش نہیں آتی ۔
 
سردیوں میں سورج کی حرارت سے عمارت کو گرم رکھنے کا کام لیا جائے گا، جب کہ گرمیوں میں عمارت پر نصب دھات کی سرخ جھالر اسے ٹھنڈا رکھنے میں مدد دے گی۔  بارش کا پانی عمارت کے غسل خانوں، نکاسی آب اور ایئر کنڈیشنگ  سسٹم میں استعمال کیا جائے گا۔  جب عمارت مکمل طورپر اپنے نظام کے مطابق کام کرنے لگے گی تو اس وقت وہ اپنی ضرورت سے زیادہ توانائی پیدا کررہی ہوگی۔

بیویرے کہتے ہیں کہ اب ہمارے تجرے کا دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ عمارت میں کام کرنے والے لوگ توانائی کے استعمال سے متعلق اپنی عادات میں کیا تبدیلیاں لاتے ہیں۔  ان کا کہنا ہے کہ عادتیں بدلنے سے ہی  توانائی کےبارے میں ٹاور سے متعلق  دعوٰے ثابت ہوسکیں گے۔  اس کے لیے عمارت میں کام کرنے والے والوں کو رات کے وقت اپنے کمپیوٹر بند کرنا ہوں گے، اور کم سے کم حرارت اور روشنی استعمال کرنا ہوگی۔  کمپنی نے اگلے تین سال کے دوران وہاں کام کرنے والے والوں کے طرز عمل  پر نظر رکھنے  اور راہنمائی کے لیے کئی سماجی ماہرین بھرتی کیے ہیں۔

 اس عمارت میں اپنے لیے دفتر حاصل کرنے والی ہر کمپنی کو ماحولیات سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کرنا ہوں گے۔  پہلی منزل پر واقع، ریڈیالوجی کے سے متعلق ایک کمپنی  کی سربراہ  جین یووس کوباچو ہیں۔  وہ کہتی ہیں کہ یہ ایک روشن عمارت ہے۔  ہم  دن بھر قدرتی روشنی میں کام کرتے ہیں۔  ہم صبح سات بجے اپناکام شروع کرتے ہیں اور رات آٹھ بجے گھر چلے جاتے ہیں۔  وہ کہتی ہیں کہ ہمارے ادارے کے ڈاکٹر ایکس ریز میں کم سطح کی ریڈی ایشن استعمال کرتے ہیں کہ اس کا کم استعمال صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ 

دی ژاں شہر کے میئر فرانکوئس ربسامن  کو توقع ہے کہ شہر میں ایسی اور عمارتیں بھی قائم کی جائیں گی۔  وہ کہتے ہیں کہ اس وقت کم توانائی استعمال کرنے والے سات سو گھروں کے منصوبے پر کام ہورہاہے۔  وہ کہتے ہیں  وہ رہائشی کمپلیکس گاڑیوں سے پاک ہوگا اور وہاں رہنے والے اپنے آنے جانے کے لیے پیدل چلیں گے یاسائیکل استعمال کریں گے۔  وہ کہتے ہیں کہ ہم 2020 تک گرین ہاؤس گیسوں کے موجودہ اخراج کو ایک چوتھائی تک کم کرنا چاہتے ہیں۔