ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • پیر, 23 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

خبریں RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

لاھور کے فٹ پاتھوں پر پرانی کتابیں؛ کاروبار میں مندی

کمپیوٹرکے ذریعے معلومات تک رسائی سے کتابوں کی مانگ کم ہوتی جا رہی ہے

شیئر کیجیئے

لاھور میں انار کلی بازار کے قرب وجوار میں اور اس سے متصل مال روڈ کے علاقے میں فٹ پاتھوں پر پرانی کتابیں فروخت کرنے کی قدیم روایت اگر چہ اب بھی قائم ہے مگر یہ دن بہ دن کم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔   اتوار کے دن جب کہ دوکانیں بند رہتی ہیں، پرانی کتابیں فروخت کرنے والے جابجا اپنی دکانیں سجا لیتے ہیں۔  لیکن عام دنوں میں پُرانی کتابیں بیچنے والوں کو یہاں موجود لاء کالج کی پرانی عمارت کے اردگرد فٹ پاتھوں تک محدود کردیا جاتا ہے۔

محمد رفیق گزشتہ چالیس برسوں سے یہاں پرانی کتابیں فروخت کررہے ہیں۔ اُنہوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرانی کتابیں پہلے تو وہ اُردو بازار سے یا پھرردی فروشوں سے خرید کر لاتے تھے۔ اس کے علاوہ اُن کے بقول لوگ خود آکر بھی اُن کے پاس پُرانی کتابیں بیچ جاتے تھے۔  اُنہوں نے کہا کہ اب اُردو کی کتابیں کم دستیاب ہوتی ہیں البتہ انگریزی کی کتابیں کراچی سے بھاری تعداد میں یہاں لائی جاتی ہیں جوکہ سستے داموں فروخت ہوتی ہیں۔  پہلے یہ کتابیں دوکانوں پربیچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔  جو وہاں نہ بِک پائیں وہ اُن کے پاس فٹ پاتھوں پرپہنچ جاتی ہیں۔  

محمد رفیق نے کہا کہ بھاری بھر کم انگریزی کتابیں بھی کافی سستی فروخت کی جاتی ہیں کیونکہ غیر ملکوں سے ان کو کم قیمت پر درآمد کیا جاتا ہے۔  تاہم وہ کہتے ہیں کہ مقامی طور پر شائع ہونے والی کتابیں بھی فٹ پاتھوں پر نسبتاًمہنگی ہوتی ہیں۔  اُنہوں نے کہا کہ ساٹھ کے عشرے میں فٹ پاتھ جگہ جگہ پرانی کتابوں سےلدے رہتے اور اب اُن کے بقول وہ زمانہ واپس آنا محال ہے۔

ایک پرانے دوکاندار بابا سمیع نے بتایا کہ ایک زمانے میں بڑے بڑے مشہور لوگ انہی فٹ پاتھوں پر گھنٹوں بیٹھ کر کتابوں کا جائزہ لیا کرتے تھے اور بعض اوقات اپنی پسند کی کتاب مل جانے پر وہ اس قدر خوش ہوتے تھے کہ منہ مانگی قیمت ادا کردیتے تھے۔  

ایک سوال کے جواب میں بابا سمیع نے بتایا کہ وہ زمانہ آج کے زمانے سے کافی مختلف تھا کیونکہ اُن کے بقول اب لوگ کتابوں میں کم دلچسپی رکھتے ہیں۔  ایک سوال کے جواب نے بابا سمیع نے کہا کہ اکثر پولیس اُن کو اور دوسرے دوکانداروں کو تنگ کرتی ہے اور سب کو فٹ پاتھ سے اُٹھا بھی دیاجاتا ہے۔  اُنہوں نے بتایا کہ اس شہر میں اُن کی بھی تھوڑی بہت واقفیت ہے اور پرانے زمانے میں پولیس کے افسر بھی اُن سے کتابیں خریدتے رہے ہیں لہذا ایسی صورت میں وہ کسی بڑے افسر یا ریٹائرڈ پولیس افسر کی کوٹھی میں جا کر ڈیرے ڈال دیتے ہیں اور اپنا کام کروا کے ہی اُٹھتے ہیں۔

فٹ پاتھ سے کتابیں خریدنے والے ایک طالبعلم کا کہنا تھا کہ کبھی کبھار اُن کو اپنی پسند کی کوئی کتاب ان فٹ پاتھوں سے ضرور مل جاتی ہے تاہم اس طالبعلم کو شکوہ تھا کہ نئی کتابیں بہت مہنگی ہیں اور فٹ پاتھوں پر اب لوگ کتابیں بیچنا چھوڑ کے رنگ برنگے پوسٹر بیچنے لگے ہیں جس وجہ سے فٹ پاتھوں پر کتابیں بکنے کی روایت بہت کم ہوگئی ہے اور یہ مسئلہ بھی ہے کہ یہ پرانی کتابیں بھی پہلے کی نسبت بہت مہنگی ملنے لگی ہیں۔  

بابا سمیع نے پوسٹر فروخت کرنے کے حو الے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کو بھی زمانے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔  وہ کہتے ہیں کہ پوسٹروں میں کتابوں کی نسبت منافع بہت زیادہ ہے اور اُن کے دو بیٹے اب پوسٹر ہی فروخت کرتے ہیں جبکہ وہ خود پرانی کتابیں بیچنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یونیورسٹی لاء کالج کی دیوار کے ساتھ پرانی کتابیں بیچنے والے ایک اور دوکاندار محمد طارق نے بتایا کہ نصاب کی کتابیں تو اُن کے پاس فروخت ہونے کے لیے آتی نہیں اس لیے ان کے گاہک طالب علموں سے زیادہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو کتابیں پڑھنے میں دلچسپی ہوتی ہے اور ایسے لوگوں کی تعداد اُن نے کہا کہ بہت کم ہوچکی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ملکی حالات کی وجہ سے ایسے مسائل پیدا ہوتے جارہے ہیں کہ اس کاروبار کو چلانا اور بھی مشکل ہوگیا ہے۔

محمد طارق نے بتایا کہ گزشتہ دنوں بم دھاکوں کے بعد سکول کالج بند ہوگئے تو اُن سے بھی کہا گیا کہ کتابیں یہاں سے اُٹھا لیں۔  اس پرانہوں نے کالج حکام  سے رابطہ کیا اور اُنھیں سمجھایا کہ آپ پرانی کتابیں فروخت کرنے والوں کو اپنے چوکیدار ہی سمجھیں۔  اگر کوئی دہشت گرد آئے گا تو پہلے ہم ہی اُس کے سامنے ہوں گے۔   محمد طارق کے بقول یہ سن کر کالج والے ہنسنے لگے اور اُنہوں نے سب کو وہاں پرانی کتابیں فروخت کرنے کی اجازت دے دی۔

محمد طارق البتہ مایوس تھے کہ پرانی کتابیں بیچنے کا یہ دھندہ اب زیادہ دیر چلنے والا نہیں ہے کیونکہ اب اُن کے کہنے کے مطابق کمپیوٹر کا زمانہ آچکا ہے۔

واضح رہے کہ لاھور شہر میں لاتعداد انٹرنیٹ کیفے بنے ہوئے ہیں اورعموماً طلبا وطالبات کے پاس گھروں میں بھی کمپیوٹرہیں۔  پھر بہت سے لوگ جیب میں بلیک بیری جیسے فون بھی رکنھے لگے ہیں جن میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے۔   اس طرح نوجوانوں سمیت سب کو دُنیا بھر کی معلومات تک رسائی بڑھ رہی ہے۔   محمد طارق کا کہنا تھا کہ ان حالات میں مستقبل میں نئی کتابوں کی مارکیٹ رہ جائے گی جبکہ پرانی کتابیں لوگ شاید کمپیوٹروں کے ذریعے ڈاون لوڈ کرلیا کریں گے۔  ایسے میں وہ فٹ پاتھوں پر ان کو خریدنے کیوں آئیں گے۔