چین کے صدر ہو جن تاؤ سنکیانگ میں نسلی فسادات کے باعث اپنا اٹلی کا دورہ منسوخ کر کے وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔ ملک کے سرکاری خبر رساں ادارے ” Xinhua“کے مطابق اب اٹلی میں جی ایٹ ممالک کے سربراہی اجلاس میں چین کی نمائندگی سٹیٹ قونصلر کریں گے۔
چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں ہنگاموں کے بعد صوبے میں دوسرے روز بھی کرفیو کے نفاذ سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور صوبائی دارلخلافے اورمچی میں حالات مسلسل کشیدہ ہیں۔ویگر”Uighur“مسلمانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں اب تک 156 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائدزخمی ہو گئے ہیں۔ جب کہ چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق پولیس 1400 سے زائد افراد کو گرفتاربھی کر چکی ہے لیکن سرکاری عہدیداروں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔
اورمچی میں ایک اعلی عہدیدارکے مطابق شہر میں حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی سہولت بند کی جارہی ہیں ۔ان سہولیات کی بندش کے بارے میں چین کی وزات داخلہ کے ترجمان کا کہناہے کہ غیر ملکی طاقتیں ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کے لیے ان سروسز کو استعمال کر رہی ہیں۔
وائٹ ہاؤس چین میں ہونے والے ان ہنگاموں پر تشویش کا اظہارکر چکا ہے جب کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون بھی چین سے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ تمام اختلافات کو پرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔ بان کی مون نے چین سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ تقریر،اجتماع اور اطلاعات کی آزادیوں کو تحفظ فراہم کرے۔
چینی عہدیداروں نے ورلڈ ویگر”Uighur“کانگریس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان ہنگاموں کو ہوا دے رہی ہے ۔ اس تنظیم کی رہنما ایک ویگر تاجر خاتون ربیعہ قدیر ہیں جو ایک چینی جیل میں کئی سال قیدرہنے کے بعد اب امریکہ میں قیام پزیر ہیں اور اُنھوں نے ان پرتشد د واقعات میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔