ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

انگریزی سیکھئے

سوشل میڈیا

سہولیات

لفظ کہانی

تنہا قاتل یا گہری سازش

شیئر کیجیئے

محمد اقبال نے ٹِبہ، سلطان پور، ضلع وہاڑی سے ایک اورسوال لکھا ہے، اس کا جواب حاضرہے:

Lone gunman theory  کا مطلب وہ نظریہ ہے جس کے تحت باور کیا جاتا ہے کہ صدر کینیڈی کو ایک ہی شخص نے ہلاک کیا تھا۔  اس شخص کا نام  لی ہاوری آسوالڈ تھا۔  

اس نظریہ سے الٹ سوچ کے مالک یقین رکھتے ہیں کہ صدر کو کسی گہری سازش کے تحت ہلاک کیا گیا اور اس میں ایک سے زیادہ لوگ شامل تھے۔

یہ تو بنیادی فرق تھا۔  لیکن صدر کینیڈی کا قتل  اور اس کے سلسلے کی تفتیش پر آج بھی پراسراریت چھائی ہوئی ہے۔
قتل کی تفتیش کا عام طریقہٴ کاریہی ہے کہ پہلے وہ گولی یا گولیاں تلاش کی جائیں جن سے ہلاکت ہوئی، پھر دیکھا جائے کہ وہ کس قسم کی پستول سے چلائی گئی تھیں۔  اور یہ بھی کہ کیا وہ ایک ہی ہتھیار سے نکلی ہیں یا مختلف ہتھیاروں سے۔  اس کے بعد یہ فیصلہ آسان ہو جاتا ہے کہ قتل میں ایک شخص ملوث تھا یا زیادہ۔

پھر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ گولی جس نشانے پر لگی وہاں پہنچنے کے لئے کیا وہ کسی بلند مقام سے چلائی گئی تھی یا قاتل زمین سے نزدیک تر تھا۔

لیکن یہاں بہت سی چیزیں واضح نہیں ہیں۔  مثلاً جو گولیاں پائی گئیں وہ بہت زیادہ مسخ شدہ تھیں (ایک گولی ان کی سٹریچر پر پڑی پائی گئی تھی، جو کہ اپنی جگہ ایک الگ معمہ ہے۔  کیونکہ سٹریچر تو حملے کے بعد ہی منگایا گیا ہوگا، پھرچلا ہوا کارتوس اس کے اوپر کیسے پہنچ گیا؟) 

ہاں، تو گولیوں کے مسخ ہونے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ دو انسانوں کے جسموں سے گذری تھیں۔  دوسرا شخص گورنر کانلی تھا جس کی پشت پر وہی گولی لگی اور سینے کے بعد کلائی سے نکلی اور ران میں پیوست ہو گئی۔  یہ سب کیسے ہوا، اس کی تشریح یہ بیان کی جاتی ہے کہ  کینیڈی کے جسم سے ہو کر گولی آگے کھڑے گورنر کو لگی۔ ان کا بازو ان سامنے تھا چنانچہ وہاں سے ہوتی ہوئی ران تک پہنچی۔  اس کو طلسمی گولی کہا جاتا ہے۔ 

دوسری گولی مسٹر کینیڈی کے سر میں لگی۔  کچھ کا خیال ہے کہ گولیاں تین تھیں، کچھ چار یا زیادہ بتاتے ہیں۔  پھر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تین یا زیادہ گولیوں کا یکے بعد دیگرے اتنی تیزی سے چلنا کہ جس سے ایسے نتائج برآمد ہوں، ممکن نہیں ہے۔  لہٰذا قتل میں ایک سے زیادہ افراد ملوث تھے۔  جب کہ اس کے برعکس یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ ایسا ہونا عین ممکن تھا۔  اور یہ ایک ہی شخص کا کام ہے۔

یہ تو ہے گولیوں کے سلسلے کا تنازع۔

حتمی طور پر کچھ اس لئے بھی نہیں کہا جا سکا کہ ان کا پوسٹ مارٹم بایئو فورنزک پیتھا لوجسٹ نے نہیں بلکہ ایک عام ڈاکٹر نے کیا تھا۔  پھر دوسرا مبینہ قاتل کبھی گرفتار نہیں ہوا۔  کچھ لوگوں کا بیان تھا کہ انہوں نے ایک عجیب سا آدمی اسی علاقے میں دیکھا تھا لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

اس قتل کے محرکات بھی واضح نہیں ہیں، لہٰذا یہ سب بھی پر اسرار ہے کیونکہ قاتل کو اگلے ہی دن جیک روبی نے قتل کر دیا۔  چنانچہ اس سے پوچھ گچھ نہیں کی جا سکی کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔  جیک روبی کے اقدام کی بھی مختلف تشریحات ہیں۔  ایک تو یہ کہ اسے آسوالڈ پر غصہ تھا، دوسری یہ کہ اسے قتل کر کے اس امکان کا جان بوجھ کر خاتمہ کیا گیا کہ کہیں اصل بات سامنے نہ آجائے۔

سرکاری طور پر اُس وقت کی اور بعد کی حکومتوں نے جو پینل اور کمیشن مقرر کئے ان سب کے مطابق یہ ایک ہی دیوانے شخص کا کام تھا۔  غیر سرکاری سطح پر البتہ جوتحقیقات کی گئی ہیں اور قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں ان میں کچھ نمونے ملاحظہ فرمائیے:

1۔  آسوالڈ کمیونسٹ تھا اس لئے صدر کینیڈی سے نفرت کرتا تھا

2۔  وہ روس میں رہا تھا اس لئے روس نے اسے واپس بھیج کر یہ کام کروایا

3۔  یہ کام کیوبا نے وہاں امریکی حملے کے انتقام کے لئےکروایا ہے

4۔  بابی کینیڈی کو اٹارنی جنرل بنا دیا گیا تھا، انہوں نے مافیا پر چھاپے مارنے شروع کر دئے جس سے ناراض ہو کر مافیا نے یہ کام کیا

5۔  یہ کام ایف بی آئی کا تھا کیونکہ کینیڈی نے ان کے اختیارات کم کردئے تھے

6۔  یہ حرکت سی آئی اے کی تھی۔

7۔  اصل میں خلا سے آنے والی مخلوق نے آسوالڈ کے کان میں کہا تھا کہ یہ کام کرو

تفتیش سے کوئی حتمی نتیجہ کیوں نہیں نکل سکا، اس کی بھی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں،  کچھ اوپر بیان ہوئی ہیں۔  ان کے علاوہ یہ بھی کہ جان ایف کینیڈی کے جسم کے معانئے سے معلوم ہوا تھا کہ گولی پہلے ان کی پشت پر لگی، یعنی کندھوں کے نزدیک، پھر وہ گردن اور حلق تک پہنچی۔  صاف ظاہر ہے کہ پستول اونچے مقام سے نہیں بلکہ زمین کے نزدیک سے چلائی گئی تھی۔  گورنر کانلی کے جسم کے معائنے سے البتہ ظاہر ہوتا ہے کہ گولی زمین پربیٹھ کرنہیں چلائی گئی تھی۔  چنانچہ یہ بات پھر لاینحل ہے کہ اس جادوئی گولی اور دوسری گولیوں کے پیچھے کتنے لوگ تھے۔

اس موضوع پر متعدد ڈاکومنٹری پروگرام بن چکے ہیں اور سات سات گھنٹوں کے ان پروگراموں میں بھی یہ معمہ حل نہیں ہو سکا ہے۔

سرکاری نتائج آج بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ کام ایک اور صرف ایک شخص نے کیا تھا۔

 

اسی نظریے کا نام ہے: lone gunman theory


انگزیزی الفاظ کا پس منظر

لفظ کہانی

الفاظ کے پیچھے چھپی دل چسپ و عجیب کہانیاں

<<مزید تفصیلات