اردو کا موازنہ عربی سے کرنا صحیح نہیں۔ ایک ہند یورپی زبان ہے اور دوسری سامی۔
مسرت انور نے میاں چنوں سے لکھا ہے، سنا ہے عربی میں آنے کو جانا کہتے ہیں، یہ کیا قصہ ہے؟
مسرت صاحبہ، آئندہ سوال انگریزی کے بارے میں بھیجئے گا۔ آپ کا یہ سوال دلچسپ ہے اس لئے مختصراً جواب حاضر ہے۔
سب سے پہلے تو اردو کا موازنہ عربی سے کرنا صحیح نہیں ہے۔ ایک ہند یورپی زبان ہے اور دوسری سامی۔ ہم چونکہ اپنی زبان یعنی اردو کو عربی رسم الخط میں لکھتے ہیں اورعربی کے بےشمار الفاظ ہماری لغت کا حصہ بھی ہیں، اس لئے یہ مغالطہ قابلِ فہم ہے کہ ان دونوں زبانوں کو مماثل ہونا چاہئے۔ لیکن دراصل صرف و نحو کے اعتبار سے یہ بہت ہی مختلف زبانیں ہیں۔
آپ کوغالباً جس لفظ کے باعث الجھن ہوئی وہ عربی زبان کا فعل ہی ہے، اس لئے آپ کی غلط فہمی قابلِ فہم ہے۔ لیکن یاد رکھنے کی پہلی بات یہ ہے کہ “ نا” پر ختم ہونے والے افعال اردو میں ہوتے ہیں، جب کہ عربی کا طریقہ مختلف ہے۔ وہاں آنا کے لئے فعل ہے المَجیُّ ۔
آپ نے شاید اس کا واحد غائب مذکر صیغہ دیکھا ہوگا، جو ہے، جاٴ، لیکن اس کا مطلب بھی آنا نہیں بلکہ، وہ آیا۔
اسی طرح عربی میں کسی شے کو لانے کے بجائے کہا جاتا ہے اس شے کے ساتھ آنا اور لے جانے کو کہیں گے اس شے کے ساتھ جانا: اس موقع پر فعل سے پہلے سابقہ بِ لگایا جاتا ہے۔
کلام ِ پاک کی آیت ذھب اللہ بنورھم کا مفہوم ہے اللہ نے ان کا نورچھین لیا۔ لیکن لفظی ترجمہ ہوگا، اللہ ان کے نور کے ساتھ چلا گیا۔ اور مطلب ہوگا اللہ ان کے نور کو لے گیا۔
اسی فعل کا یعنی المجیُّ کا مطلب کسی کام کو انجام دینا یا کسی بات کا مرتکب ہونا بھی ہے۔
جیسےسورة مریم میں اور سورة کہف میں آیا ہے
لقد جِئتِ شیئاً فرّیا (آپ نے انوکھا کام کیا ہے، نرالی حرکت کی ہے)
لقد جِئتَ شیئاً اِمرا (آپ نے بڑا خطرناک کام کیا ہے)
چنانچہ یہ تشریح کہ عربی میں آنا کو جانا کہتے ہیں، درست نہیں ہے۔