تسلیم فاروق نے بانڈی پورہ، کشمیر سے ایک اور سوال بھیجا ہے کہ فوبیا کا مطلب کیا ہے اور اس کی اقسام کون کونسی ہیں؟
فوبیا ایک قسم کے خوف کو کہتے ہیں لیکن یہ ایسا خوف نہیں جیسے بچوں کو اندھیرے سے یا کسی جانور سے ڈر لگے۔ بلکہ فوبیا ایسا خوف ہے جو بہت گہرا ہو، جس کی وجہ آسانی سے سمجھ میں نہ آ سکے اور نہ اسے عقلی بنیاد پہ پرکھا جا سکے۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ مکڑیوں سے بیماری کی حد تک خوف کھاتے ہیں جب کہ ایک عام انسان کے لئے مکڑی کی حیثیت مکھی، مچھر سے زیادہ نہیں ہوتی۔ فوبیا کے شکار لوگوں پر کوئی منطقی استدلال کام نہیں کرتا کیونکہ ان کا خوف بجائے خود غیر منطقی ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو بیوقوف یا پاگل سمجھنے کے بجائے ان سے اسی طرح ہمدردی کرنی چاہئے جیسے کسی مریض سے کی جاتی ہے۔ اور ان کا مذاق اڑانے کے بجائے جہاں تک ہو سکے ان کی مدد کرنی چاہئے۔ مثلاً اگر اپ کا کوئی دوست مکڑی سے خوف کھا رہا ہے تو آپ آگے بڑھ کر خود اسے ہلاک کر دیں (مکڑی کو)۔
فوبیا کی کچھ اقسام مندرجہ ذیل ہیں:
Agoraphobia اگرچہ اس یونانی اصطلاح کا لفطی مطلب ہے بازار کا خوف۔ لیکن یہ کسی بھی کھلی جگہ کے خوف کو کہہ سکتے ہیںجوگھر سے دور ہوں اور جہاں ایمرجنسی کی صورت میں مدد پہنچنا مشکل ہو۔ ایسے میں مریض کو بغیر کسی وجہ کے بدحواسی کا دورہ پر جاتا ہے۔
Claustrophobia تنگ جگہوں کا خوف یعنی جہاں دم گھٹنے کا اندیشہ ہو۔
Nephophobia یعنی بادلوں کا خوف۔ یونانی میں nephos بادل کو کہتے ہیں۔ اسی سے ملتا جلتا ایک خوف ہے:
Brontophobia یعنی گرج چمک کا خوف
Necrophobia یعنی موت کا یا لاشوں کا خوف
Logophobia یعنی الفاظ کا خوف
Phagophobia یعنی نگلنے یا کھانے کا خوف: ایسے مریض عموماً مائع اشیا پر گذارہ کرتے ہیں۔
Mysophobia جسے عرفِ عام میں جرمافوبیا بھی کہتے ہیں۔ یہ جراثیم سے حد درجے خوف کھانے کا مرض ہے۔ اس کا تعلق Obsessive-compulsive disorder سے ہے جس کا شکار انسان صفائی کا دیوانہ ہوتا ہے۔
Glossophobia کا مطلب ہے عوام الناس کے سامنے تقریر کرنے کا خوف
Kenophobia سے مراد ہے بڑی بڑی خالی جگہوں کا خوف
Acrophobia بلند جگہوں کے خوف کو کہتے ہیں
Xenophobia یعنی غیر ملکیوں اور اجنبیوں کا خوف
یہ فہرست ختم ہونے والی نہیں ہے۔ ان میں کچھ عام ہیں کچھ بہت ہی غیر معمولی۔ مثلاً یہ خوف کہ عالمی جنگ سے ساری دنیا فنا ہو جائے گی۔ اور اس طرح کے بہت سے چھوٹے بڑے خوف ہیں جو دنیا کے ہر کونے میں کسی نہ کسی کو اپنی لپیٹ میں لئے رہتے ہیں۔
اگر تو خوف ایسا ہے کہ جس کے باعث روزمرہ زندگی پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا پھر تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر کسی خوف کے باعث کام کاج، گھریلو زندگی یا پڑھائی متاثر ہو رہی ہو تو اس کا علاج کرانا ضروری ہے۔